انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 405

۴۰۵ وقتی علاج ہوتی ہیں دائمی طور پر ملک کے گلے پڑ جائیں- اس کے علاوہ میرے نزدیک اس تدبیر کو اختیار کرنے میں یہ نقص بھی ہے کہ گو ہم یہ کہتے رہیں کہ یہ تدابیر وقتی ہیں لیکن جو قوم ان کے ذریعہ سے فائدہ اٹھا رہی ہو گی وہ اس خیال سے کہ ہمارے ہی اختیار میں تو بات ہے جب چاہیں گے ان تدابیر کو چھوڑ دیں گے، اپنی کمزوری کو دور کرنے کے لئے جلد کوشش نہیں کریں گی اور نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ بجائے اپنے نفس میں بیداری پیدا کرنے یا دوسری قوم سے صلح کی کوشش کرتے رہنے کے حفاظتی قانون پر دارومدار رکھنے کی عادی ہو جائیں گی اور ہمیشہ کے لئے ان کی تدابیر کی حفاظت کی آڑ لینے پر مجبور رہے گی- پس ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم کوئی ایسا طریق ایجاد کریں جس کی مدد سے ہماری تینوں غرضیں پوری ہو جائیں- اول ان حفاظتی تدابیر کو بغیر از سر نو جھگڑا پیدا کرنے کے ختم کیا جا سکے- دوم اکثریت اپنی حالت کو جلد سے جلد اچھا کرنے پر مجبور ہو- سوم حفاظتی تدابیر فساد اور جھگڑے کر بڑھانے میں ممد نہ ہوں- سو ان تینوں غرضوں کو پورا کرنے کے لئے میرے نزدیک صرف ایک ہی تدبیر اختیار کی جا سکتی ہے اور وہ یہ کہ چند سال مقرر کر دیے جائیں کہ اس وقت تک یہ حفاظتی تدابیر رہیں گی، اس کے بعد خود بخود منسوخ ہو جائیں گی- اس طرح تینوں فائدے حاصل ہو جائیں گے کیونکہ سال مقرر ہونے کی وجہ سے کسی جماعت کو کسی وقت بھی یہ کہنے کا موقع نہ ملے گا کہ ہم انہیں ختم نہیں ہونے دیں گے- دوسرے اکثریت کو یہ خیال رہے گا کہ صرف فلاں وقت تک یہ حفاظت ہے اس کے بعد ختم ہو جائے گی اس لئے وہ اس قانون سے مطمئن نہیں ہو گی بلکہ پورا زور لگائے گی کہ اس سے پہلے پہلے وہ اپنے افراد کو بیدار کر لے تا کہ اس کے منسوخ ہونے پر وہ اپنی حفاظت خود کر سکے- تیسرے سب اقوام اپنے اندر صلح کا جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کرتی رہیں گی کیونکہ ہر ایک فریق جان لے گا کہ وہ دوسرے کو اس کی غفلت کی حالت میں کمزور نہیں کر سکتا اور یہ کہ کچھ عرصہ کے بعد سب کو مل کر کام کرنا ہوگا- پس آئندہ آنے والے مخلوط انتخاب کے خیال سے جب کہ ہر ایک امیدوار کو اپنی ہمسایہ قوم کی امداد کا خواہاں ہونا پڑے گا، سب قوموں کے افراد آپس کی رنجش اور کدورت کو کم کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے- غرض عرصہ کی تعیین سے یہ تینوں فوائد حاصل ہو جاتے ہیں- اس لئے سب سے بہتر تدبیر یہی ہے کہ عرصہ کی تعیین ہو جائے-