انوارالعلوم (جلد 11) — Page 398
۳۹۸ میں مسلمانوں کو مائنارٹی (MINORITY) دے دی جائے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ دوسرے مسلمان بھی اس پر راضی ہوں- لیکن اس امر پر تو کوئی مسلمان جماعت راضی نہیں اور راضی نہیں ہو سکتی کہ دوسرے صوبوں کی مسلمان اقلیتوں کو اس قدر حق زائد دے کر جن سے وہ پھر بھی اقلیت میں ہی رہیں مسلمانوں کی دو جگہ کی اکثریت کو اقلیت سے بدل دیا جائے- اگر انصاف کی نگاہ سے دیکھا جائے تو ہندوؤں نے جو قربانی دوسرے صوبوں میں کی ہے، اس کا بہت بڑا بدلہ ان کو مل چکا ہے اور وہ یہ کہ صوبہ سرحد کے مسلمان صوبے کو ان کی شہہ اور ان کی خوشی کے لئے اب تک آزادی سے محروم رکھا گیا ہے- بہرحال کسی کمیشن کا یہ حق نہیں کہ پنجاب اور بنگال کے مسلمانوں کا حق وہ اور کسی صوبہ کے لوگوں کی خاطر قربان کر دے- ان دونوں صوبوں کے مسلمان اس کو قبول کرنے کے لئے ہرگز تیار نہیں اور میں جانتا ہوں کہ خواہ کس قدر قربانی ہی کیوں نہ کرنی پڑے وہ ہر گز اس کے لئے تیار نہیں ہونگے- اگر برطانیہ دوسرے صوبوں کے مسلمانوں کو کسی زائد حق کا حقدار نہیں سمجھتا تو وہ اس زیادتی کو جو دوسرے صوبوں کے مسلمانوں کو دی ہے واپس لے سکتا ہے- لیکن وہ ان صوبوں کو کوئی زیادتی پنجاب اور بنگال کے مسلمانوں کو کمزور کر کے کسی صورت میں نہیں دے سکتا بلکہ میں امید کرتا ہوں کہ دوسرے صوبوں کے مسلمان بھی کوئی ایسی زیادتی قبول نہیں کریں گے جس کی ناقابل برداشت قیمت پنجاب اور بنگال کے مسلمانوں سے وصول کی جائے- اگر قیمت لینی ہے تو صوبہ سرحد اور صوبہ سندھ اور صوبہ بلوچستان اس قیمت کو ادا کرنے کو تیار ہیں- چنانچہ صوبہ سرحد کے مسلمان اس امر کو قبول کرتے ہیں کہ ہندوؤں کو پچیس فیصدی تک حق دے دیں گویا ان کی آبادی سے پانچ گنے زیادہ- اسی طرح سندھ اور بلوچستان کے مسلمان بھی اگر انہیں آزادی ملے تو تیار ہیں کہ دوسرے صوبہجات کے مسلمانوں کی خاطر ہندوؤں کو ان کے حق سے بہت زیادہ تعداد میں نیابت دے دیں- چھٹی غلطی اس فیصلہ میں کمیشن سے یہ ہوئی ہے کہ باوجود اس امر کو تسلیم کرنے کے کہ لکھنؤ پیکٹ پر کبھی بھی عمل نہیں کیا گیا اور اب تو دونوں پارٹیاں اسے رد کرتی ہیں یہ خیال اس کے ذہن پر مستولی رہا ہے کہ مسلمانوں کو جو کچھ دوسرے صوبوں میں ملا ہے وہ لکھنؤ پیکٹ کی وجہ سے ملا ہے اور اس وجہ سے لکھنؤ پیکٹ کے مطابق پنجاب اور بنگال میں بھی عمل ہونا چاہئے لیکن یہ خیال ان کا بالکل غلط ہے- نہ مسلمانوں کا دعویٰ لکھنؤ پیکٹ پر مبنی ہے اور نہ اس کی بناء