انوارالعلوم (جلد 11) — Page 387
۳۸۷ اگر متحدہ انتخاب ہوگا تو مذہب کی بناء پر جنگ ہوگی- پس جب تک کہ حکومت حقیقی طور پر ہندوستانیوں کے ہاتھ میں نہیں آتی اور بجائے اس کے کہ گورنر مختلف پارٹیوں سے چن کر وزارت بنائے ایک وزیر اعظم کے ذریعہ سے وزارت نہیں بنائی جاتی پارٹی سسٹم کبھی ترقی نہیں پا سکتا اور کبھی بھی سیاسی اصول پر انتخابات میں مقابلہ نہیں کیا جا سکتا- ہاں جب صوبہ جات کو آزادی ملے گی اور لوگ یہ محسوس کریں گے کہ قوانین انگریزوں کی طاقت سے نہیں بلکہ وزارت کی مرضی سے بنتے ہیں تب وہ لوگ جن کو ان قانونوں سے تکلیف پہنچی اکٹھے ہونے شروع ہونگے اور اپنے لئے ایک الگ پالیسی مقرر کرلیں گے اور مشترکہ تکلیف کا مقابلہ کرنے کے لئے وہ تمام ہندو، سکھ، مسلمان اور مسیحی ایک جتھہ بنا لیں گے جن کوان قانونوں سے تکلیف پہنچی ہوگی اور اس طرح آہستہ آہستہ مختلف سیاسی طریق کار ایسے تجویز ہو جائیں گے جن کی بناء پر لوگوں کو انتخاب کی جنگ لڑنا آسان ہو جائے گا اور بوجہ اس کے کہ یہ لوگ اپنی پارٹیوں میں ہندو، مسلمان، سکھ، مسیحی ہر قسم کے لوگ شامل رکھتے ہونگے انتخاب کے موقع پر ہندو، مسلم یا سکھ، مسیحی کا سوال نہیں اٹھا سکیں گے اور نہ اس کی انہیں اس وقت ضرورت محسوس ہوگی تب اور صرف تب وہ وقت آئے گا جب ہندوستان کے مخصوص حالات کے لحاظ سے مخلوط طریق انتخاب بغیر فتنہ پیدا کرنے کے ملک کے لئے مفید ہو سکے گا- اس سے پہلے اسے جاری کر کے دیکھ لو، قومی تعصب کی آگ روزانہ تیز سے تیز تر بھڑکنے لگے گی اور یہ علاج جو یورپین نگاہ میں تریاق نظر آتا ہے ہندوستان کو زہر ہو کر لگے گا- پس علیحدہ انتخاب کے طریق کو مسلمانوں پر احسان کر کے نہیں بلکہ ہندوستان کی ترقی اور یہاں کے باشندوں کے اچھے تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے جاری رکھنا چاہئے- اب رہا یہ سوال کہ اگر اس طریق کو جاری کر دیا گیا تو کیا ہمیشہ کے لئے یہ انوکھا طریق ہندوستان کے گلے پڑا رہے گا؟ آخر اس کے دور کرنے کا بھی کوئی طریق ہوگا یا نہیں؟ مسلمانوں کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ اس کے دور کرنے کا طریق یہی ہے کہ وہ اقلیتیں جن کے حق میں اس طریق کو جاری کیا جائے اس کے بدلنے کی سفارش کریں- اس وقت تک حکومت ہندوستان کا بھی یہی خیال ہے لیکن میرے نزدیک یہ حل کوئی ایسا آسان حل نہیں- ‘’جن کے حق میں اس قانون کو جاری کیا گیا ہے’‘ مبہم الفاظ ہیں اس کا کون فیصلہ کرے گا کہ یہ قانون کس کے حق میں جاری کیا گیا ہے؟ کہا جاتا ہے کہ جن کو جُداگانہ انتخاب کا حق دیاگیا ہے