انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 386

انوار العلوم جلد !! ۳۸۶ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کامل والے ہوں۔ مگر میرے نزدیک جہاں پہلے سے تعصب موجود ہو اور سیاسی سوالات زیر بحث نہ ہوں وہاں مشترکہ انتخاب میں سب سے زیادہ یہی سوال اٹھایا جائے گا کیونکہ اگر ہندو الگ حلقہ سے منتخب ہو رہا ہو ہو اور مسلمان الگ حلقہ سے تو ہندو تو ہندو کی اپنے ہندو مد مقابل کے خلاف اور مسلمان کی اپنے مسلمان مد مقابل کے خلاف طاقت خرچ ہوگی لیکن اگر ایک ہی حلقہ سے ہندو اور مسلمان کھڑے ہونگے تو تعصب کی موجودگی کی وجہ وجہ سے ان کے لئے سب سے سہل طریق یہ ہو گا کہ اپنی اپنی قوم کے تعصب سے اپیل کر کے اس کی مدد حاصل کریں۔ اصل میں انگلستان کے لوگ اس امر کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ الیکشن کے وقت کسی نہ کسی چیز پر حصول امداد کا دارو مدار ہوتا ہے۔ ووٹر کو جگانا آسان کام نہیں۔ اس کے جگانے کے لئے کوئی ایسا مقصد اس کے سامنے رکھنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی غفلت کو ترک کر کے امیدوار کی مدد کے لئے تیار ہو جائے۔ انگلستان میں اور دوسرے ممالک میں خاص خاص سیاسی پالیسیاں ہیں جن کی خوشنمائی اور دلفریبی ظاہر کر کے امیدوار ووٹروں کو اپنی طرف مائل کرتے ہیں لیکن ہندوستان میں تو اب تک کوئی سیاسی پالیسی سوائے انگریزوں کی مخالفت کے نہیں ہے۔ آزادی کے ساتھ ہی یہ جوش دلانے کا ذریعہ بھی ختم ہو جائے گا۔ باقی اور کونسی پالیسی ہے جس سے پبلک میں امیددار جوش پیدا کر سکیں گے۔ سیاسی پارٹی کوئی ہے نہیں جس کے پروگرام کی تائید کر کے امیدوار لوگوں کی مدد حاصل کرے اور اگر کوئی پارٹی ہو بھی تو ابھی تک چونکہ پارٹی سسٹم پر حکومت کو قائم نہیں کیا گیا اور آئندہ کے لئے بھی سائمن رپورٹ نے اس کا دروازہ بند کر دیا ہے کوئی پارٹی سیاسی پروگرام نہیں تیار کر سکتی۔ پس کوئی امیدوار جو کسی حلقہ سے کھڑا ہو اپنے حلقہ کے ووٹروں کے سامنے پیش کرے تو کیا؟ کیا وہ اکیلا کوئی پالیسی تیار کر سکتا ہے اور اگر کرے تو کیا اپنے حلقہ کے لوگوں کو یقین دلا سکتا ہے کہ اگر وہ کامیاب ہوا تو اس پالیسی پر عمل کرا سکے گا۔ پارٹی تو یہ امید دلا سکتی ہے کیونکہ وہ بوجہ ایک جماعت ہونے کے اس امر کی امید رکھتی ہے کہ اگر اس کی کثرت ہوئی تو وہ حکومت پر قابض ہو جائے گی اور اپنی پالیسی کے مطابق حکومت کرے گی لیکن ایک فرد کس برتے پر کوئی وعدہ کر سکتا ہے؟ اس کے لئے تو ان حالات میں سوائے قومی اور مذہبی تعصب کی پناہ لینے کے اور کوئی چارہ ہی نہیں ہو سکتا پس وہ اسی حربہ کو استعمال کرے گا۔ پس اب جب کہ علیحدہ انتخاب کی صورت میں امیدوار کی قوم کے سوال پر یا کانگریس ہونے کی بنیاد پر الیکشن کا جھگڑا طے کیا جاتا ہے۔ حد اس کے کانگریسی یا مخالف کا حدت حد