انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 372

۳۷۲ (ABSOLUTE) اکثریت کے ساتھ اس امر کا فیصلہ کرے کہ آئندہ یہ سلسلہ جاری رہے یا بند کر دیا جائے اور وزارت کلی طور پر ہندوستانیوں کے ہاتھ میں آ جائے- اس طرح پارٹی سسٹم بھی ترقی کرے گا اور وزارت مشترکہ ذمہ داری بھی اٹھا سکے گی اور تجربہ کار افسروں کی خدمات سے فائدہ اٹھانے کا بھی ملک کو موقع مل جائے گا اور جس طرح سول سروس کے کسی ایک فرد کو وزارت دینے کا اختیار وزیراعظم کو حاصل ہو اسی طرح کونسلوں سے باہر کسی شخص کو منتخب کرنے کا اختیار بھی اسے ہو لیکن شرط یہ ہو کہ ایسا شخص وزارت کے عہدہ پر مامور ہونے کے چھ ماہ کے عرصہ کے اندر بذریعہ انتخاب کونسل کا ممبر ہو جائے- اگر اس عرصہ میں وہ ممبر منتخب نہ ہو سکے تو پھر وہ وزارت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ استعفاء دینے پر مجبور ہو- یہ ایک حقیقت ہے کہ جب کہ افسران میں سے بعض کا وزارت پر مقرر ہوتے رہنا بشرطیکہ وزیر اعظم کے انتخاب پر ایسا ہو ملک کے لئے ایک وقت تک مفید ہوگا بلکہ میری ذاتی رائے میں صحیح طریق پر حکومت کرنے کے لئے ضروری ہوگا- وہاں گورنر کی مرضی سے ایسے ہندوستانی وزراء کا تقرر جو کونسلوں کے منتخب ممبر نہ ہوں آئینی ترقی کے سخت منافی ہوگا- پس ہندوستانی نمائندوں کو اس امر کو کبھی تسلیم نہیں کرنا چاہئے- سائمن رپورٹ نے اس امر پر بھی زور دیا ہے کہ گورنر کو اختیار ہونا چاہئے کہ خواہ ایک پارٹی یا جماعت میں سے وزارت کا انتخاب کرے یا مختلف پارٹیوں میں سے- اس امر کا تو کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ آئین اساسی کے ماتحت گورنر ہی وزراء مقرر کرتا ہے مگر ساتھ ہی اس کا بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اگر صحیح طور پر پارٹیوں کے اصول پر حکومت کو چلانا مدنظر ہو تو اس انتخاب میں گورنر آزاد نہیں ہوتا بلکہ اس کا یہ فرض ہوتا ہے کہ اس بارے میں وہ اس وزیر کی رائے کو قبول کرے جسے وہ وزارت بنانے کے لئے مقرر کرلے وہ وزیر اعظم کو مشورہ دے سکتا ہے لیکن اصل ذمہ واری وزارت کے انتخاب کی وزیر اعظم پر ہی ہوتی ہے- اگر ایسا نہ کیا جائے تو ہر روز مصنوعی پارٹیاں محض وزارتوں کی خاطر بنتی رہیں گی اور آئینی طور پر کام کرنے کی عادت کبھی بھی پارٹیوں کے ممبروں کو نہیں پڑے گی- پس گورنر کو پابند کرنا چاہئے کہ وہ اس بارہ میں وزیر اعظم کے انتخاب کی تصدیق کرے- یا پھر وزارت بنانے کا کام کسی اور وزیر کے سپرد کرے- صرف اسی صورت میں پارٹیاں اپنے اثر کو محسوس کرا سکتی ہیں اور اسی صورت میں گورنر مجبور ہو سکتا ہے کہ سب سے پہلے اس پارٹی کو موقع دے جو اکثریت رکھتی ہو- ورنہ