انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 368

۳۶۸ ہونگے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ ایک شخص منسٹر کے ماتحت کام کرتا ہوا یکدم گورنر بن کر اس کا حاکم ہو جائے گا جو اچھے انتظام کے منافی ہے- موجودہ نظام کے ماتحت بھی مذکورہ بالا صوبوں میں ہر سول سرونٹ بالقوۃ گورنر ہوتا ہے- لیکن ساتھ ہی موجودہ نظام میں منسٹر اس کے اوپر براہ راست افسر نہیں ہوتا- اس وجہ سے وہ نقص پیدا نہیں ہوتا جو میں نے اوپر بیان کیا ہے- نئے تغیر کے بعد اگر اس نقص کی اصلاح نہ کی گئی تو کبھی بھی منسٹروں میں صحیح طور پر کام کرنے کی جرات نہ پیدا ہوگی اور نہ سول سرونٹس میں صحیح طور پر ان کے احکام کو بجا لانے کی روح پیدا ہوگی جس سے نظام ڈھیلا ہوتا چلا جائے گا- پس اگر دو شاخی حکومت کو دور کرنا ہے تو ساتھ ہی یہ فیصلہ کرنا بھی ضروری ہے کہ آئندہ ان صوبوں کے گورنر بھی براہ راست آئیں گے- اس تبدیلی پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ چونکہ اس طرح سول سرونٹس کے لئے ترقی کی گنجائش کم رہ جاتی ہے لائق آدمی اس طرف آنے سے گریز کریں گے لیکن میرے نزدیک یہ اعتراض درست نہیں- اگر مدراس، بمبئی اور بنگال کو لائق آدمی مل جاتے ہیں تو کیوں ان صوبوں کو نہ ملیں گے؟ ایک اور علاج بھی اس نقص کو رفع کرنے کا کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ بجائے اس کے کہ بعض صوبوں میں سے ایسے افسروں کو جو اس وقت کام کر رہے ہوں گورنر بنایا جائے گورنر علاوہ انگلستان کے تجربہ کار سیاسیوں کے ایک حصہ گورنروں کا ہندوستان کے ایسے ریٹائرڈ افسروں میں سے بھی مقرر کیا جایا کرے جو کم سے کم پانچ سال پہلے ہندوستان کی ملازمت سے ریٹائر ہو چکا ہو- اس طرح اس ملازمت میں بھی پہلی سی کشش باقی رہے گی اور مذکورہ بالا نقص بھی دور ہو جائے گا بلکہ تجربہ کے ساتھ ساتھ وہ زائد فوائد بھی حاصل ہو جائیں گے جو براہ راست گورنر مقرر کرنے کے بیان کئے جاتے ہیں- وزارت سائمن رپورٹ کی سفارش یہ ہے کہ-: (۱) منسٹری متفقہ طور پر کونسلوں کے سامنے ذمہ دار ہو- (۲) گورنمنٹ کے سب ممبر منسٹر کہلائیں- ایگزیکٹو ممبر اور منسٹر کی تفریق مٹا دی جائے- (۳) منسٹر کیلئے کوئی شرط نہ ہو کہ وہ منتخب شدہ یا نامزد شدہ ممبر ہی ہو بلکہ سرکاری افسر یا پبلک کے کسی آدمی کو جو کونسل کا ممبر نہ بھی ہو وزارت کے عہدہ پر مقرر کرنے کی گورنر کو