انوارالعلوم (جلد 11) — Page 356
۳۵۶ وقت تک اصلاحات سے محروم ہیں لیکن کوئی معقول وجہ نہیں کہ انہیں اصلاحات سے محروم رکھا جائے- جہاں تک میں سمجھتا ہوں کورگ کو بڑی آسانی سے مدراس سے ملایا جا سکتا ہے- کمیشن کا یہ بیان کہ اس علاقہ کا مذہب اور اس کی قومیت مختلف ہے کوئی دلیل نہیں کیونکہ مذہب اور قومیت کا اختلاف دوسرے علاقوں میں بھی پایا جاتا ہے- اصل بات جو دیکھنے والی ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ علاقہ جغرافیہ اور تاریخی حیثیت سے الگ حیثیت رکھتا ہو اور دوسرے علاقہ سے مل کر اس کی ترقی میں روک پیدا ہونے کا احتمال ہو اور اس میں الگ صوبہ بننے کی قابلیت ہو اور یہ باتیں کورگ میں نہیں پائی جاتیں- پس کوئی وجہ نہیں کہ اسے مدراس کے ساتھ شامل کر کے اس دو عملی کو جو ملک میں پیدا ہے دور نہ کیا جائے- زبان اور مذہب کے متعلق اس قسم کی حفاظتی تدابیر اختیار کر لی جائیں جو دوسری اقلیتوں کو حاصل ہیں- جیسے کہ اس علاقہ میں ابتدائی تعلیم مقامی زبان میں ہوگی- یا یہ کہ اس علاقہ کے لوگوں کو تناسب آبادی کے لحاظ سے ملازمتیں وغیرہ ملتی رہیں گے- غرض ان کے حقوق کی حفاظت کا انتظام کر کے مدراس کے ساتھ ملا دینا چاہئے- اسی طرح اجمیر ماڑواڑہ کے علاقہ کو باوجود اس کے کہ وہ یو-پی سے کسی قدر فاصلہ پر ہے یو-پی میں ملا دینا چاہئے کیونکہ دونوں علاقوں کی زبان اور رسم و رواج بالکل ایک سے ہیں اور ان کے ملانے میں کوئی روک نہیں ہے- باقی رہا یہ کہ درمیان میں ریاستوں کا علاقہ ہے یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے- کئی اور علاقے یو-پی کے ہیں جو مرکز سے قریباً اسی قدر فاصلہ پر ہیں- جس قدر کہ اجمیر ماڑواڑ کا علاقہ ہے- اور بعض مقامی ضرورتوں کے لئے الگ انتظام کیا جا سکتا ہے- جیسے مثلاً ایک جوڈیشنل کمشنر کی اسامی مقرر کر دی جائے- تیسرا علاقہ بلوچستان کا ہے یہ علاقہ بھی آبادی اور آمدن کے لحاظ سے بہت چھوٹا ہے گو رقبہ کے لحاظ سے کافی ہے- کیونکہ خالص انگریزی علاقہ بھی قریباً سو میل لمبا اور سو میل چوڑا ہے لیکن اگر ایجنسی کا علاقہ جو براہ راست انگریزی افسروں کے انتظام کے ماتحت ہے شامل کر دیا جائے تو ترپین ہزار مربع میل کا رقبہ ہو جاتا ہے جو بہار اور اڑیسہ کے دو تہائی کے برابر ہے اور آسام سے تھوڑا ہی کم بنتا ہے- پس اس وجہ سے یہ علاقہ اس امر کا مستحق ہے کہ اس کو ایک نیا صوبہ بنا دیا جائے- تو امید ہے کہ تھوڑے عرصہ میں اس علاقہ کی آبادی اور آمدن دونوں میں ترقی کی دی جائے گی کیونکہ اس وقت تک بوجہ غیر آئینی صوبہ ہونے کے اس علاقہ میں بسنے سے