انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 355

انوار العلوم جلدا ۳۵۵ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل اب میں ان چھوٹے صوبوں کو لیتا ہوں جنہیں پراونشل گورنمنٹ نہیں ملی۔ اول دہلی ہے اس کے متعلق کسی دلیل )PROVINCIAL GOVERNMENT( کے بغیر کمیشن نے رپورٹ کی ہے کہ اس کا سابق انتظام ہی قائم رہے اور وہ یہ ہے کہ پنجاب کونسل جو قانون پاس کرتی ہے گورنر جنرل خاص اعلان کے ذریعہ سے اسے اس صوبہ میں نافذ کر دیتے ہیں۔ دوسرا صوبہ کو رگ کا ہے۔ اس کی آبادی ایک لاکھ چھتیس ہزار اور رقبہ ایک ہزار پانچ سو اسی مربع میل ہے۔ ریاست میسور کا ریذیڈنٹ (RESIDENT) بحیثیت عہدہ اس کا چیف کمشنر ہوتا ہے۔ اور ایک کو نسل اس صوبہ کو ملی ہے جس کا پریذیڈنٹ خود چیف کمشنر ہے۔ اس وقت تک اس کو نسل نے دو قانون پاس کئے ہیں۔ اور سال میں اوسطاً چھ دن اس کے اجلاس ہوتے ہیں۔ کمیشن کی رائے میں اس علاقہ کے نظام میں بھی کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں۔ تیسرا علاقہ بلوچستان کا ہے اس میں چیف کمشنر حاکم ہے جو جرگہ کی مدد سے وہاں حکومت کرتا ہے اور اس علاقہ کی ریاستوں کے لئے ایجنٹ ٹو دی گورنر جنرل کا عہدہ بھی اسی کے پاس ہوتا AGENT TO THE GOVERNOR GENERAL( ہے۔ کمیشن وہاں کے لوگوں کی عادات کی وجہ سے اس ملک کے انتظام میں بھی تبدیلی کی سفارش نہیں کرتا۔ اس کا رقبہ ایک لاکھ چونتیس ہزار تین سوار تھیں مربع میل ہے اور آبادی ساڑھے آٹھ لاکھ کے قریب ہے۔ لیکن اکثر رقبہ ریاستوں کے ماتحت ہے اور نصف کے قریب آبادی بھی ان میں بستی ہے۔ انگریزی علاقہ قریباً دس ہزار مربع میل ہے۔ لیکن اس کے ساتھ دائمی ٹھیکہ کا علاقہ قریباً چوالیس ہزار میل ہے۔ چوتھا صوبہ اجمیر مارواڑ ہے۔ یہ علاقہ ریاستوں میں گھرا ہوا ہے اور بوجہ دوسرے صوبوں سے دور ہونے کے کمیشن اس کی نئی تشکیل کی بھی سفارش نہیں کرتا۔ اس صوبہ کی آبادی پانچ لاکھ سے کچھ اوپر ہے اور رقبہ دو ہزار سات سو گیارہ مربع میل ہے۔ موجودہ نظام حکومت یہ ہے کہ راجپوتانہ کی ریاستوں کے لئے گورنر جنرل کا جو ایجنٹ مقرر ہوتا ہے وہی اس کا چیف کمشنر ہوتا ہے۔ پانچواں صوبہ شمال مغربی سرحدی صوبہ ہے جس کی آبادی قریباً چالیس لاکھ ہے۔ اور رقبہ تقریباً چالیس ہزار مربع میل ہے۔ اس کا موجودہ انتظام یہ ہے کہ ایک چیف کمشنر وہاں مقرر ہوتا ہے جو فارن آفس کی معرفت گورنر جنرل کے ماتحت ہے۔ اس صوبہ کے لئے خاص قوانین گور نر جنرل کی طرف سے مقرر ہیں۔ وہ یہ پانچ صوبے ہیں جو علاوہ ان علاقوں کے جو بیک ورڈ (BACK WARD) کہلاتے ہیں اس