انوارالعلوم (جلد 11) — Page 351
۳۵۱ اور برباد ہو چکا ہوتا’‘- ۴۹؎ ہندوستان کے اختلافات یونائٹیڈسٹیٹس سے بہت زیادہ ہیں- پس اگر اس ملک میں یونیٹری حکومت اتحاد نہیں بلکہ فساد پیدا کر سکتی تھی تو یہ خیال نہیں کیا جا سکتا کہ ہندوستان میں اس سے قومیت پیدا ہوگی- اگر اس طریق کو اختیار کیا گیا تو قومیت پیدا نہیں ہوگی بلکہ خرابی ہوگی- ہندوستان کے لئے فیڈرل سسٹم کے فوائد علاوہ زبان و رسوم وغیرہ کے اختلاف کے یہ امر بھی غور کے قابل ہے کہ ہندوستان میں حقیقی اتحاد کے لئے فیڈرل اصول حکومت کے بغیر گذارہ ہی نہیں ہو سکتا- کیونکہ اس ملک کا ایک تہائی حصہ ریاستوں کے ماتحت ہے اور جب تک وہ حصہ ہندوستان سے ان امور میں مشترک ہو کر کام نہ کرے جو آل انڈیا حیثیت کے ہیں اس وقت تک ہندوستان ترقی نہیں کر سکتا اور اس کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ فیڈریشن کے اصول پر کام کیا جائے- ورنہ نیم آزاد ریاستیں کبھی بھی برطانوی ہند سے مل کر کام کرنے پر تیار نہ ہونگی- دوسرا فائدہ فیڈرل سسٹم کا یہ ہے کہ ہندوستان ایک وسیع ملک ہے اور اس کے مختلف صوبوں کے باشندوں کے مزاج بوجہ مختلف آب و ہوا کے مختلف ہیں- پس یہ لازمی بات ہے کہ فیڈرل سسٹم کے اجراء پر ہر صوبہ اپنی ضرورت کے مطابق حکومت کے قواعد بنائے گا اور اس طرح تھوڑے ہی عرصہ میں ہندوستان میں متفرق قسم کے سیاسی تجربات ہونے لگ جائیں گے جن تجربات سے مرکزی حکومت فائدہ اٹھائے گی اور اسے آئینی اصول کے مطابق ایک ایسی مکمل صورت اختیار کرنے کا موقع ہوگا جو شاید دنیا کے کسی اور ملک کو حاصل نہیں ہے- فیڈرل انڈیا کے حصے اب میں اس سوال کو لیتا ہوں کہ ملک کے کونسے حصے اور کس اصل پر فیڈرل انڈیا کا جزو بنیں گے- میں اس وقت ریاست ہائے ہند کے سوال کو چھوڑتا ہوں کیونکہ وہ مستقل بحث کا محتاج ہے اور صرف برطانوی ہند کو لیتا ہوں- اس وقت ہندوستان نو آئینی صوبوں اور چند غیر آئینی علاقوں میں منقسم ہے- سوال یہ ہے کہ اس موجودہ حالت میں اس کی فیڈریشن کس طرح بن سکتی ہے- کیونکہ فیڈریشن کے اصول کے یہ امر منافی ہے کہ اس کے بعض حصے مرکزی حکومت کے ماتحت ہوں- اگر ایسا ہوا تو فیڈریشن ناقص ہو جائے گی- کیونکہ اس میں یونیٹری یعنی اتصالی اور فیڈرل یعنی اتحادی دونوں قسم کی