انوارالعلوم (جلد 11) — Page 347
۳۴۷ جیسے پرانے خادم ملک کی طرف بھی یہ منسوب کیا جاتا ہے کہ انہوں نے انگلستان میں ایک موقع پر فیڈرل سسٹم کے خلاف یہ اعتراض کیا ہے کہ اس سے ہندوستان میں کبھی بھی قومیت پیدا نہیں ہوگی- گو مجھے کبھی بھی مسٹر شاستری سے ملنے کا موقع نہیں ملا لیکن میرے دل میں ان کی بہت عزت ہے کیونکہ میرا ہمیشہ ان کی نسبت یہ خیال رہا ہے کہ وہ ان چند ہندوستانیوں میں سے ہیں کہ جو بات کرنے سے پہلے سوچ لیتے ہیں اور جانچ تول کر بات کرتے ہیں اور نسلی اور مذہبی جھگڑوں کی آگ کے بھڑکانے کے مرتکب نہیں ہوتے ایسے آدمی کی بات ضرور قابل غور ہوتی ہے اس وجہ سے میں نے نہایت غور سے اس سوال کے مختلف پہلوؤں کو دیکھا ہے- لیکن باوجود اس کے میں اس دلیل کے اندر کوئی بھی حقیقت پانے سے محروم رہا ہوں- میں تاریخ عالم پر ایک گہری نظر ڈالنے سے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جس طرح انسان آپس میں ایکدوسرے سے بحیثیت افراد کے اور بحیثیت اقوام کے مختلف ہیں اسی طرح وہ آپس میں بحیثیت زمانہ کے بھی اور بحیثیت جگہ کے بھی مختلف ہیں- یعنی انسانوں میں یہی اختلاف نہیں پایا جاتا کہ ایک فرد دوسرے فرد سے اور ایک قوم دوسری قوم سے مختلف ہے بلکہ جس زمانہ میں کوئی شخص یا قوم ہے اگر اسے دوسرے زمانہ میں لے جایا جائے تو اس کے حالات بھی اپنے پہلے حالات سے مختلف ہو جائیں گے- اسی طرح ایک قوم کو اس کے موجودہ ملک سے نکال کر دوسرے ملک میں لے جاؤ تو اس کے حالات بھی وہاں جا کر مختلف ہو جائیں گے- مثال کے طور پر انگلستان کی نو آبادیوں کو دیکھ لو- وہاں کے قوانین انگلستان سے جدا ہیں حالانکہ وہ انگلستان سے جا کر وہاں بسے ہیں- اس کی وجہ یہی ہے کہ ملک کے تغیر کے ساتھ ان کی ضرورتیں بھی بدلتی گئی ہیں- پھر ان میں آپس میں بھی اتحاد نہیں- کینیڈا کی انگریزی نو آبادیوں نے اپنے لئے اور قوانین تجویز کئے ہیں تو آسٹریا نے اور نیوزی لینڈ نے اور- اور یہ اختلاف عام قوانین میں ہی نہیں ہے بلکہ قانون اساسی میں بھی ہے- اب اگر اس اختلاف کو دیکھ کرکوئی شخص یہ مقابلہ کرنے بیٹھے کہ ان قوانین میں سے کونسا بہتر ہے تو گو بعض غلطیاں وہ نکال لے گا لیکن ایسے مقابلہ کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ حق سے دور جا پڑے گا کیونکہ بہت سی باتیں جنہیں وہ دوسری باتوں پر ترجیح دے گا درحقیقت ترجیح کے قابل نہیں ہونگی جو جس ملک میں رائج ہے وہاں کے لئے وہی بہتر اور مفید ہوگی- غرض ملکوں کے حالات پر غور کئے بغیر اور قوموں کے حالات پر غور کئے بغیر ایک قاعدہ کلیہ بنا لینا کہ فلاں اصول حکومت فلاں سے بہتر ہے ایک نادانی کا فعل ہے اور