انوارالعلوم (جلد 11) — Page 346
انوار العلوم جلد ۳۶ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل ان دو متضاد بیانوں کی وجہ سے مختلف لوگوں کے مختلف خیالات ہیں۔ بعض تو کہتے ہیں کہ پہلا حوالہ بطور اصول کے ہے اور دوسرا حوالہ صرف درمیانی وقت کے لئے عارضی احتیاط کا کام دیتا ہے اور بعض کہتے ہیں کہ دوسرا حوالہ کمیشن کے اصل خیالات کو ظاہر کرتا ہے اور اس نے صرف ہندوستانیوں کو یہ تسلی دلانے کے لئے کہ اگر مرکز میں ہم کو اختیار نہیں ملے تو صوبہ جات میں تو اٹانومی مل گئی ہے۔ فیڈرل سسٹم اور اٹانومی کے الفاظ اختیار کئے ہیں ورنہ ان کی تجویز کردہ سکیم فیڈرل سسٹم کہلانے کی مستحق ہرگز نہیں کیونکہ صوبہ جات کو بالکل ایک بے معنی سی کانسٹی چیوشن دی گئی ہے جس کی آئندہ ترقی کیلئے بھی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر دوسرے حوالہ کو ہم بطور اصل کے تسلیم کریں تو ہمیں ایسی ہی مایوسانہ رائے قائم کرنی پڑتی ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ کمیشن نے دیدہ دانستہ ایسا نہیں کیا۔ جس زور سے انہوں نے فیڈریشن اصول کو پیش کیا ہے اور جس طرح انہوں نے زور سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس وقت مرکزی حکومت کو طاقتیں دینی مناسب نہیں کیونکہ یہ کام اتحادی اصول کے ماتحت صوبہ جات کا ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دل میں یہی تھا کہ صوبہ جات کو حقیقی خود اختیاری حکومت ملے جیسے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی ریاستوں کو حاصل ہے۔ مگر بہر حال خواہ ان کا مطلب کچھ بھی ہو اب جب کہ شبہ پیدا ہو گیا ہے یہ امر آئندہ آئین اساسی میں بوضاحت بیان ہونا چاہیئے کہ ہندوستان کی حکومت کامل اتحادی ہوگی اور مرکزی حکومت کو صرف وہ اختیارات حاصل ہوں گے جو صوبہ جات اسے دیں یا جن اختیارات کو کہ وہ اپنی آزادی کے مکمل ہونے پر اس کے پاس رہنے دینے پر رضامندی ظاہر کریں اور تمام باقی اختیارات صوبہ جات کے قبضہ میں سمجھے جائیں گے اور ان کی مرضی کے بغیر مرکز ان میں کسی صورت میں دخل دینے کا مجاز نہ ہو گا۔ بعض ہندو صاحبان کی طرف سے فیڈرل سٹم پر اعتراضات اور ان کے جواب فیڈرل سیم پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے۔ کہ اس طرح ہندوستان کی قومیت کمزور ہو جائے گی اور کبھی بھی ہندوستان ایک قوم نہیں بن سکے گا اور بعض ان میں سے یہ بھی کہتے ہیں کہ فیڈرل طریق کو جاری کر کے انگریزوں کا یہ منشاء ہے کہ ہندوستان کے مختلف صوبوں میں رقابت پیدا کر دیں اور اس طرح ہمیشہ کے لئے ہندوستان پر قبضہ رکھیں۔ یہ اعتراض معمولی لوگوں کی طرف سے نہیں ہے بلکہ مسٹر شاستری