انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 342

۳۴۲ غرض ملک کا آئین اساسی جس خطرہ کو مدنظر رکھ کر بنایا جاتا ہے- اسی کے مطابق سپریمکورٹ بھی تجویز کیا جاتا ہے- پس ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ ہندوستان میں جو مستقل آئین اساسی پر زور دیا جاتا ہے تو کیوں دیا جاتا ہے- آیا اقلیتوں کو خطرہ سے بچانے کے لئے یا کسی خاص بااثر جماعت کے ہاتھ سے اکثریت کو بچانے کے لئے- اگر اول الذکر صورت ہے جیسا کہ سب تسلیم کرتے ہیں کہ وہی صورت ہے- تو پھر یونائیٹڈسٹیٹس کی طرح کا سپریم کورٹ ہی کام دے سکتا ہے اور اگر دوسری قسم کے خطرات ہیں جیسا کہ ہر اک جانتا ہے کہ نہیں ہیں تو پھر بیشک سوئٹنررلینڈ جیسا سپریم کورٹ یعنی ریفرنڈم تجویز کیا جا سکتا ہے- خلاصہ یہ ہے کہ ہندوستان کا آئین اساسی غیر لچک دار ہونا چاہئے اور اقلیتوں کی حفاظت کے لئے جن امور کو ضروری سمجھا جائے وہ اس میں بالتفصیل بیان کئے جائیں اور کوئی ایسا محکمہ ضرور تجویز ہونا چاہئے کہ جو فیصلہ کر سکے کہ قانون اساسی کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی- قانوناساسی کی دفعات کیا ہوں اس کی تبدیلی کی کیا ضرورت ہو سپریم کورٹ کس صورت میں عمل کرے میں اس وقت اس پر بحث نہیں کرتا- اس کا موقع میرے نزدیک فیڈریشن کی بحث کے بعد آئے گا- پس اب میں فیڈرل سسٹم (FEDERAL SYSTEM) پر بحث کرتا ہوں-