انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 340

۳۴۰ مٹا دے اور ہر ریاست ڈر رہی تھی کہ کہیں دوسری ریاستیں مل کر میری ہستی کو معدوم نہ کر دیں یا میری آواز کو کمزور نہ کر دیں اس نے اپنے لئے ایسا نظام تجویز کیا جس میں بعض خاص امور کو تو اکثریت کے فیصلہ سے بالکل باہر نکال لیا اور ایسی شرطیں لگا دیں کہ کسی صورت میں بھی اکثریت اقلیتوں کو قربان نہ کر سکے اور بعض امور کے فیصلہ کے لئے ایسی پابندیاں لگا دیں کہ صرف منتخب نمائندوں کی اکثریت فیصلہ نہ کر سکے بلکہ اقلیتیں جو یونائیٹڈ سٹیٹس کی صورت میں ریاستیں تھیں جب تک بحیثیت ریاستوں کے ایک بہت بڑی کثرت سے اس کی تائید نہ کریں ان امور کے متعلق فیصلہ نہ سمجھا جائے اور اپنے مخصوص حالات کے ماتحت ان لوگوں نے سپریمکورٹ بھی ملک کی تمام آبادی کو قرار نہ دیا کیونکہ اکثریت کے فیصلہ سے بچنے کے لئے ہی وہ تدبیریں کر رہے تھے بلکہ ایک آزاد کورٹ الگ تجویز کیا جس کے سامنے آئین اساسی کے سوال پیش ہوا کریں- چنانچہ اس کورٹ کے ججوں کے انتخاب کا انہوں نے یہ طریق مقرر کیا کہ پریذیڈنٹ ان کا انتخاب کیا کرے لیکن سینٹ کا اتفاق رائے ضروری ہو- سینٹ کے اتفاق رائے میں پھر وہی روح کام کر رہی ہے کہ ریاستوں کو بحیثیت ریاست اس امر کی نگرانی کا موقع مل جائے کہ ایسے جج مقرر نہ ہوں جو اقلیتوں یعنی ریاستوں کے حقوق کو نظر انداز کر دینے والے ہوں- غرض سوئٹنررلینڈ اور یونائیٹڈ سٹیٹس دونوں ملکوں نے اپنے خاص حالات کے مطابق سپریم کورٹ تجویز کئے ہیں خواہ ایک نے اس کا نام سپریم کورٹ نہ رکھا ہو مگر آئیناساسی کی حفاظت اور ترجمانی کرنے والا محکمہ ضرور مرجود ہے اور اس مناسب شکل میں موجود ہے جس شکل میں کہ اس کی ضرورت تھی- یہ جو میں نے کہا ہے کہ سوئٹررلینڈ میں چند بااثر افراد کی حکومت کے خوف کو مدنظر رکھتے ہوئے آئین اساسی تجویز کیا گیا ہے اور یونائیٹڈ سٹیٹس میں اکثریت کے غلبہ کے خوف کو مدنظر رکھتے ہوئے آئین اساسی تجویز کیا گیا ہے، یہ بے دلیل بات نہیں بلکہ تاریخ اور خود ان ممالک کے آئین اساسی سے اس امر کا ثبوت ملتا ہے- یونائیٹڈ سٹیٹس کے متعلق تو ہر تاریخ کے پڑھنے والے کو یہ بات معلوم ہے کہ اس کے آئین اساسی کے بناتے وقت سب سے بڑی دقت یہی تھی کہ ہر ایک ریاست ڈرتی تھی کہ ایسا نہ ہو کہ بعض دوسری ریاستوں کا جتھا مل کر مجھے تباہ کر دے اور اس وقت یونائیٹڈ سٹیٹس کا قانون اساسی بنانے والوں کے سامنے اصل سوال یہی تھا کہ اکثریت، اقلیت کو کچل نہ دے- چنانچہ اس وقت ان لوگوں کی جو کیفیت تھی وہ