انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 6

۶ سات ہندؤوں کا ایک وفد میرے پاس آیا اور مجھ سے شکایت کی کہ قادیان میں مذبح کُھلنے والا ہے میں اس کا تدارک کروں۔اس وفد کے رئیس پنڈت دولت رام ممبر میونسپل کمیٹی قادیان تھے۔میں نے ان سے کہا کہ ایک طرف لوگ اپنی مشکلات کا رونا رو رہے ہیں، دوسری طرف سکھوں نے جھٹکا کا کام شروع کرنے کا ارادہ کیا ہے ان حالات میں میں قادیان جا کر اور فریقین کے حالات سن کر ہی فیصلہ کر سکتا ہوں اور انہیں تسلی دلائی کہ جس حد تک ممکن ہو گا، میں ایسی صورت اختیار کروں گا تاکہ طرفین کی ضرورت اور احساسات کا لحاظ رکھا جائے۔پس وہ قادیان جانے پر مجھ سے ملیں۔میں دوسرے ہی دن قادیان کو روانہ ہو گیا اور وہاں پہنچنے پر ہندو صاحبان کا ایک بڑا وفد میرے پاس اسی غرض کے لئے آیا۔میں نے انہیں سمجھایا کہ سکھوں نے جھٹکا کا سوال چھیڑ کر میری پوزیشن نازک کر دی ہے کیونکہ ذبیحہ گائے کا روکنا احساسات کے احترام پر مبنی ہے اور مسلمانوں میں یہ شکایت پیدا ہو چکی ہے کہ جب دوسرا فریق ہمارے احساسات کا خیال نہیں رکھتا تو ہمیں اس کے احساسات کے لئے اس قدر بڑی قربانی پر کیوں مجبور کیا جا تاہے اس لئے پہلے مجھے سکھوں سے اور اپنی جماعت کے علاوہ دوسرے مسلمانوں سے بات کرنے کا موقع دیں۔اس پر وہ لوگ چلے گئے۔دوسرے دن ایک آریہ صاحب ایک پاس کے گاؤں کے جتھے دار اور ایک سکھ ڈاکٹر کو لے کر میرے پاس آئے اور کہا کہ آپ سکھوں سے بات کرنا چاہتے ہیں، سو یہ لوگ آگئے ہیں۔میں نے انہیں جواب دیا کہ میں نے تو یہ کہا تھا کہ میں خود قادیان کے سکھوں کو بلواؤں گا۔آپ صرف ایک قادیان کے آدمی اور ایک جتھے دار کو لے کر آگئے ہیں مگر بہرحال میں ان کی بات سننے کو تیار ہوں۔ان لوگوں نے مجھ سے سوال کیا کہ جب پہلے گائے کے ذبیحہ سے آپ روکتے تھے تو اب آپ نے مذبح کی درخواست کی کیوں اجازت دے دی ہے۔میں نے انہیں بتایا کہ آپ لوگوں کا سوال بھی اس امر کو ثابت کر رہا ہے کہ موجودہ درخواست کسی دشمنی یا دل کے دکھانے کی غرض سے نہیں ہے کیونکہ جب میں پہلے آپ کے احساسات کا خیال رکھتا رہا ہوں تو اب کیوں بِلاوجہ ان کو صدمہ پہنچاؤں گا۔ہاں اگر آپ وجہ معلوم کرنا چاہتے ہیں تو وہ یہ ہے کہ ایک تو لوگوں کی اقتصادی حالت اور بڑھتی ہوئی مسلمان آبادی نے حالات بدل دیئے ہیں۔اور دوسرے جھٹکا کے سوال کے پیدا ہونے کے سبب سے میں دیانت دارانہ طور پر اس قدر زور نہیں دے سکتا جس قدر کہ پہلے دے سکتا تھا۔ہاں میں نے ان کو یہ بھی کہا کہ میرے