انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 334

۳۳۴ صوبہ جات کا آئین اساسی لچکدار (FLEXIBLE CONSTITUTION) ہو- ہاں گورنر یہ خیال رکھے کہ اقلیتوں کے حقوق تلف تو نہیں کئے جاتے اور سپریم کورٹ کے ہندوستانی مخالف یہ کہتے ہیں کہ آئین اساسی تو مستقل ہو لیکن اس کی خلاف ورزی کی صورت میں کسی عدالت کے سپرد اس کا فیصلہ نہ کیا جائے- گویا ایک اس کو لچکدار قرار دے کر اس کی لچک کو دور کر دیتا ہے اور دوسرا اسے مستقل قرار دے کر اس کے استقلال کو نظر انداز کر دیتا ہے اور یہ دونوں حالتیں بالکل غیر آئینی اور خلاف عقل ہیں اور مجھے تعجب ہے کہ وہ لوگ جو رات دن سیاسیات میں مشغول رہتے ہیں، اس قسم کی غلطی کے مرتکب کس طرح ہو سکتے ہیں- چونکہ میری غرض یہ ہے کہ میں نہ صرف ان لوگوں سے اپیل کروں کہ جو سیاسیاتحاضرہ کے ماہر ہیں بلکہ ان سے بھی جو عقل میں تو ان سے کم نہیں لیکن ان کی خودساختہ اصطلاحات سے واقف نہیں ہیں اس لئے ایسے لوگوں کے سمجھانے کے لئے میں مذکورہبالاعبارت کی مزید تشریح کر دینا مناسب سمجھتا ہوں- اس وقت تک سیاسیات کی جس قدر باریکیوں تک انسان کا دماغ پہنچ سکا ہے اس سے ماہرین سیاسیات اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ آئینی حکومتوں میں یعنی ان حکومتوں میں جو کسی ایک شخص کی غیر محدود مرضی پر منحصر نہیں ہیں دو قسم کے قوانین ہوتے ہیں- ایک اساسی یعنی وہ قانون جو یہ بتاتے ہیں کہ حکومت خواہ شخصی ہو یا جماعتی، پھر جماعتی کا خواہ قانون ساز حصہ ہو، خواہ انتظامی، خواہ عدالتی، اپنے اختیارات کو کس رنگ میں اور کس حد کے اندر استعمال کرے گا اور دوسرا عام قانون جو حکومت کے عمل کی حدبندی یا تشریح نہیں کرتا بلکہ حکومت کے علاوہ جو افراد یا جماعتیں ہوں، ان کے اعمال کے متعلق قانون تجویز کرتا ہے- دوسرے وہ اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ڈیما کریٹک ( DEMOCRRATIC) یعنی جمہوری حکومتیں بھی دو قسم کی ہوتی ہیں- ایک وہ جن کا قانون کلی طور پر اکثریت کی مرضی کے مطابق بنتا ہے- یعنی سب کے سب قوانین خواہ اساسی ہوں یا عام ایک ہی قاعدہ کے مطابق ملک کے منتخب کردہ نمائندوں کی اکثریت کی رائے کے مطابق بنائے جاتے ہیں چونکہ اس حکومت کے قوانین بلااستثناء منتخب کردہ نمائندوں کی اکثریت کی رائے کے مطابق بنتے ہیں اور جب کوئی دوسری اکثریت انہیں منسوخ کر دے یا اس میں تبدیلی کر دے تو وہ منسوخ ہو جاتے ہیں یا بدل جاتے ہیں- اس وجہ سے اس حکومت کے آئین اساسی کو لچکدار کہتے ہیں- یعنی اکثریت جب