انوارالعلوم (جلد 11) — Page 331
۳۳۱ سکتے ہیں- اور وہ پہلے امور قابلِ تنقیح نکال کر قابل بحث امور کو ایک لحاظ سے واضح اور ایک لحاظ سے محدود کر دیتی ہے- پھر عدالت مجبور ہے کہ خود فیصلہ لکھے- اس طرح اس کے فیصلے اور اس کی سب کارروائی کی نقل لینے کا دونوں فریق کو حق ہے- یہ پانچوں امر بظاہر معمولی معلوم دیتے ہیں لیکن انصاف میں بہت ممد ہیں اور کم سے کم ایک بڑی حد تک فریقین کے لئے تسلی اور اطمینان کا موجب ہو جاتے ہیں- اس کے برخلاف ایگزیکٹو (EXECUTIVE)کی کارروائی پس پردہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے رعایت کا شبہ لوگوں کے دلوں میں رہتا ہے- اس میں فریقین کو ایک دوسرے کے بالمقابل جرح کرنے اور دلائل بیان کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا جس کی وجہ سے وہ امور جو ایگزیکٹو پر مشتبہ رہیں انہیں کھولنے کا موقع فریقین کو نہیں ملتا- وہ قابل تنقیح امور کو الگ نکال کر فریقین کو اس سے آگاہ نہیں کرتی کہ اسے معاملہ کی حقیقت سے واقف کرنے کے لئے کن کن امور پر روشنی ڈالنی ضروری ہے- پھر ضروری نہیں کہ وہ فیصلہ خود لکھے یا لکھوائے بلکہ عام طور پر ایگزیکٹو محکموں میں فیصلے دوسرے لوگ لکھتے ہیں اور افسر صرف یہ دیکھنے کی کوشش کرتا ہے کہ فیصلہ درست ہے- حالانکہ سب مِسل کو پڑھ کر خود فیصلہ لکھنا یا لکھوانا اور شئے ہے اور دوسرے کے فیصلہ پر نظر اصلاح ڈالنا اور شئے ہے اسی طرح ایگزیکٹو کی سب کارروائی ضروری نہیں کہ تحریر میں آئے اس کا ایک حصہ ضرور زبانی مشوروں پر مبنی ہوتا ہے اس وجہ سے اس کا ریکارڈ نامکمل ہوتا ہے اور پھر اس نامکمل ریکارڈ کی نقل لینے کا فریقین کو اختیار نہیں ہوتا جس کی وجہ سے فریقین کو اس کے فیصلے کے صحت کے پرکھنے کا موقع نہیں ملتا- ان پانچوں اختلافوں کی وجہ سے حقوق کے تصفیہ کے لئے عدالت کے فیصلہ کو انتظامی حکام کے فیصلہ سے ممتاز کیا گیا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اس بارے میں ممتاز ہے- میرا یہ مطلب نہیں کہ عدالت خراب نہیں ہو سکتی- میں خود پہلے لکھ چکا ہوں کہ عدالتیں بھی خراب ہو سکتی ہیں لیکن جب دو چیزوں کا مقابلہ کیا جاتا ہے تو دونوں کی اچھی یا دونوں کی بری یا دونوں کی اوسط حالت کا مقابلہ کیا جاتا ہے، نہ کہ ایک کی اچھی اور ایک کی بری حالت کا- اور اگر اس طرح ہم عدالت اور ایگزیکٹو کا مقابلہ کریں تو یقیناً ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ بری عدالت بری ایگزیکٹو سے کم نقصان پہنچا سکتی ہے اور اچھی ایگزیکٹو سے اچھی عدالت پر لوگ زیادہ اعتبار کرتے ہیں اور اس کی یہ وجہ نہیں کہ عدالت پر زیادہ قابل لوگ مقرر کئے جاتے ہیں بلکہ اس کی وجہ وہ قوانین ہیں جن کا میں اوپر ذکر کر آیا ہوں اور جن کی وجہ سے