انوارالعلوم (جلد 11) — Page 329
حصہ دوم باب اول ہندوستان کا آئینِ اَساسی اب میں اس مقام پر پہنچ گیا ہوں کہ ہندوستان کے آئندہ دستور اساسی کے متعلق اپنے خیالات کو ظاہر کر سکوں کیونکہ ابتدائی مراحل کو میں طے کر چکا ہوں اور اب مجھے صرف نتیجہ بیان کرنا ہے جو یہ ہے کہ ہندوستان کا آئندہ دستور اساسی محفوظ (RIGID) ہو اور اقلیتوں اور صوبوں کے حقوق کی حفاظت اس میں مدنظر رکھی جائے- اکثریت بے شک جو بات ملک کے لئے بہتر سمجھے اس کے مطابق عمل کرے لیکن جب تک اقلیتیں اس پر تسلی نہ پا جائیں اس وقت تک اکثریت کے اختیارات کو اس طرح محدود کر دیا جائے کہ وہ اقلیتوں کے حقوق کو تلف نہ کر سکے اور اس حد بندی کو آئین اساسی میں شامل کر دیا جائے کیونکہ آئین اساسی اپنے ساتھ مادیطاقت نہیں رکھتا لیکن اخلاقی طاقت بہت کچھ رکھتا ہے اور اکثریت کا ایک حصہ ضرور معاہدہ کی خلاف ورزی سے پرہیز کرنے پر اصرار کرتا ہے جس کی مدد کے ساتھ اقلیت اپنے حقوق کی حفاظت کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے- دنیا میں حکومتیں معاہدات کو توڑتی ہی رہتی ہیں لیکن باوجود اس کے کوئی نہیں کہتا کہ معاہدات کی کیا ضرورت ہے؟ جب کسی حکومت کی مرضی ہوگی وہ معاہدہ توڑ دے گی- اس میں کوئی شک نہیں کہ مرضی پر معاہدات ٹوٹ سکتے ہیں اور توڑے جاتے ہیں لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ معاہدات کو توڑ کر جس قدر ظلم ہوتا ہے اس سے بہت زیادہ بغیر معاہدہ کے ہوتا