انوارالعلوم (جلد 11) — Page 318
۳۱۸ کے خالی ہونے پر اسے مقرر کر دیا جائے گا ایک ہندو اسسٹنٹ فزیشن کو دے دیا گیا اور باوجود اس کے کہ پرنسپل نے اعتراض بھی کیا کہ مجھے سرجن کی ضرورت ہے نہ کہ فزیشن کی غیرمسلموزیر نے اپنے فیصلہ کو نہ بدلا- کالجوں میں مسلمان طالبعلموں کیلئے چالیس فیصدی کی حد بندی کر دی گئی ہے حالانکہ صوبہ میں ان کی آبادی نصف سے زیادہ ہے- اسی طرح مسلمانوں کی درسگاہوں کو ان کے حق کی نسبت بہت کم ایڈ (AID) دی جاتی ہے- زیادہ تنخواہ والی نئی جگہوں میں سے اکثر پر ہندوؤں کو مقرر کر دیا گیا ہے- ہندو اور مسیحی اپنے مذہبی دن کی چھٹی مناتے ہیں لیکن باوجود اس کے کہ گورنمنٹ آف انڈیا نے اجازت دی ہے پھر بھی اکثر محکموں میں مسلمانوں کو جمعہ کی نماز کی چھٹی نہیں دی جاتی اور بعض دفاتر چھٹی دیتے ہیں تو بعد میں اتنا وقت کام لے لیتے ہیں حالانکہ یورپ میں جہاں یہودی اقلیت کافی ہے ان کے لئے سبت کی چھٹی کا انتظام کیا گیا ہے- مسلمان اس پر راضی تھے کہ جمعہ کے دن انہیں دو گھنٹہ کی چھٹی ہی دے دی جائے لیکن اس کا کوئی انتظام نہیں حالانکہ وہ آبادی میں سے پچیس فیصدی ہیں- غرض یہ سب کچھ گورنروں کی نظروں کے سامنے ہو رہا ہے- یہ نہیں کہ وہ بددیانت ہیں بلکہ اعلیٰ سے اعلیٰ کیریکٹر کے لوگ ہیں جن کے ذاتی چلن نے ہمارے دلوں میں گھر کیا ہوا ہے لیکن ان معاملات میں وہ کچھ نہیں کر سکتے اس لئے کہ ساتھ مل کر کام کرنے والوں پر اس قسم کی نکتہ چینی انسانی طبیعت کے خلاف ہے- یہ تو سلوک کے متعلق ہے- اب میں قانون کو لیتا ہوں- پنجاب میں زمینداروں کی حفاظت کے لئے زمیندارہ قانون بنا ہوا ہے- اس سے زمینداروں کو بہت کچھ نجات ساہوکاروں کے ظلموں سے حاصل ہوئی تھی لیکن پچھلے دنوں ہائی کورٹ کے چند فیصلوں کے ذریعہ سے اس قانون کا نفع قریباً باطل ہو گیا ہے- زمینداروں نے بہت زور دیا لیکن گورنمنٹ اپنے مصالح کی وجہ سے کچھ نہیں کر سکی- زمینداروں نے خود مسودہ پیش کیا تو گورنمنٹ نے آفیشل بلاک (OFFICIAL BLOCK) کی مدد سے اسے مسترد کرا دیا- ساہو کار اس ملک میں بعض دفعہ سَو سَو فیصدی سود لیتے ہیں اور عدالتیں نہایت نامعقول سود انہیں دلاتی ہیں- ایسے کیس موجود ہیں کہ بیس تیس روپیہ ایک شخص نے قرض لیا اور دس پندرہ سال میں