انوارالعلوم (جلد 11) — Page 317
۳۱۷ متعلق بھی شبہ ہے- لیکن یہ تو یقینی امر ہے کہ وہ دوسری اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت اس طرح بالکل نہیں ہو سکتی اور مجھے یقین ہے کہ چند ہی سال میں خود انگریز بھی شکایت کرنے لگیں گے کہ اس طرح ان کے حقوق کی حفاظت نہیں ہو سکتی- کمیشن نے اس امر کو بالکل نظر انداز کر دیا ہے کہ جن امور میں اقلیتوں کو حفاظت کی ضرورت ہے ان میں پہلے بھی ضرورت رہتی تھی اور یہ کہ برطانیہ کے نمائندوں نے کیا گورنر اور کیا دوسرے افسر بہت ہی کم ان امور میں اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کی ہے- مثلاً ملازمتوں کے متعلق مسلمانوں کو شکوہ ہے لیکن اس بارہ میں موجودہ اختیارات کے باوجود حکومت بہت ہی کم علاج کر سکتی ہے- کئی سال ہوئے ریلوے کی ملازمتوں کے متعلق گورنمنٹ نے وعدہ کیا تھا کہ مسلمانوں کے حقوق کی نگرانی کی جائے گی- لیکن نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ۱۹۲۶ء میں تو آٹھ فیصدی مسلمان ملازمت میں آئے تھے- مگر ۱۹۲۹ء میں کل دو فیصدی مسلمان ملازمت میں لئے گئے ہیں- ڈسٹرک بورڈوں وغیرہ میں نامزدگی کا حق اس لئے دیا گیا تھا کہ اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت ہو لیکن اگر گورنمنٹ کبھی ان نامزدگیوں کو دیکھنے کی تکلیف گوارا کرے تو اسے معلوم ہوگا کہ ہر گز اس امر کا لحاظ نہیں رکھا جاتا بلکہ حکام ضلع خواہ انگریز ہوں خواہ ہندوستانی اس حق کو اپنے ساتھ ملنے والوں کے لئے بطور صلہوانعام استعمال کرتے ہیں- میں کونسلوں کی نامزدگیوں کی نسبت یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ وہ بطورانعام یا صلہ استعمال ہوتی ہیں لیکن یہ یقینی امر ہے کہ ان میں بھی توازن کا قیام ہر گز مدنظر نہیں رکھا جاتا اور بسا اوقات وہ اس طرح کی جاتی ہیں کہ جو اقوام پہلے ہی اپنے حق سے زائد لے رہی تھیں نامزدگیوں میں بھی وہ آکر شامل ہو جاتی ہیں- گائے کی قربانی کو گورنمنٹ حتیالامکان روکنے کی کوشش کرتی ہے اور نئے مذبحے کھولنے کی نہایت مشکل سے اجازت دیتی ہے حالانکہ غذا انسانی ضرورتوں میں سے اہم چیز ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ کسی قوم کو اس کی غذا سے روکا جائے جب کہ وہ دوسرے کے احساسات کو صدمہ پہنچائے بغیر ایک الگ جگہ میں اپنی ضرورت کو پورا کرنے پر آمادہ ہو- زبان کی یہ حالت ہے کہ مختلف صوبہ جات میں اردو کی جگہ ہندی لے رہی ہے اور گورنمنٹ بالکل خاموش ہے- حقوق کی حفاظت کا یہ حال ہے کہ پنجاب کے ایک کالج میں ایک سرجن پروفیسر کا عہدہ ولایت کے پاس شدہ ایک قابل مسلمان کی بجائے جو اسی شرط پر نائب پروفیسر ہوا تھا کہ اس جگہ