انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 316

۳۱۶ باب ہشتم سائمن کمیشن کی حفاظتی تدابیر میں بتا چکا ہوں کہ اہل کمیشن نے اقلیتوں کے لئے حفاظتی تدابیر کی ضرورت کو تسلیم کیا ہے- چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ-: ‘’ ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت تک کہ رواداری کی روح ہندوستان میں پیدا ہو جائے اور اس وقت تک کہ اقلیتیں اکثریت کے انصاف پر زیادہ اعتبار کرنے لگیں حفاظتی تدابیر کی ضرورت یقینی طور پر ثابت ہے’‘- ۳۶؎ لیکن انہوں نے اس کا جو علاج تجویز کیا ہے وہ یہ ہے کہ گورنروں اور گورنر جنرل کے ہاتھ میں اختیارات دیئے جائیں تا کہ وہ اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کر سکیں- وہ لکھتے ہیں کہ-: ‘’ہمارا خیال ہے کہ کمزور یا تعداد میں کم جماعتوں کی حفاظت کا عملی ذریعہ صرف یہی ہے کہ ایک غیر جانبدارانہ دخل اندازی کی طاقت گورنر جنرل اور صوبہجات کے گورنروں کے ہاتھ میں قائم رکھی جائے جسے وہ حسب موقع اسی غرض کے لئے استعمال کیا کریں’‘- ۳۷؎ اسی طرح وہ سنٹرل لیجسلیچر (CENTRAL LEGISLATURE) کے نیچے لکھتے ہیں کہ-: ‘’اس (حفاظت) کو حاصل کرنے کا عملی طریقہ صرف یہ ہے کہ ایک غیرجانبدارانہ دخل اندازی کا حق گورنر جنرل اور صوبہ جات کے گورنروں کے ہاتھ میں محفوظ رکھا جائے’‘- ۳۸؎ ممکن ہے کہ یہ ذریعہ حفاظت انگریزوں کے حقوق کی حفاظت کر سکے گو مجھے اس کے