انوارالعلوم (جلد 11) — Page 305
۳۰۵ ۲ اس خطرہ کے پیدا ہونے کی ذمہ داری اقلیت پر ہے یا اکثریت پر؟ ۳ جن امور کے متعلق اقلیت خوف کرتی ہے کیا وہ قومی یا انفرادی ترقی کیلئے ضروری ہیں؟ ۴ جن امور کے متعلق اقلیت خوف کرتی ہے کیا انہیں قربان نہیں کیا جا سکتا؟ ۵ جن امور کے متعلق اقلیت حفاظت چاہتی ہے کیا ان کے متعلق حفاظتی تدابیر کا اختیار کرنا نظام کو باطل اور حکومت کو تباہ تو نہیں کرتا؟ ۶ اقلیت جن حفاظتی تدابیر کا مطالبہ کرتی ہے کیا ان سے اکثریت یا دوسری اقلیتوں کے حقوق کو تو نقصان نہیں پہنچتا؟ یہ چھ اصول ہیں جنہیں میرے نزدیک اقلیتوں اور اکثریت کے حقوق کے فیصلہ کے وقت مدنظر رکھنا چاہئے اور اب میں ان اصول کی روشنی میں اصولی طور پر ہندوستان کی اقلیتوں کے سوال کو لیتا ہوں- پہلا اصل یہ ہے کہ کیا اقلیتوں کا خوف حقیقی یا وہمی یا بناوٹی تو نہیں؟ اس سوال کا حل اس لئے ضروری ہے کہ اگر خوف وہمی ہو تو اس وہم کا ازالہ کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اگر ازالہ ہو جائے تو سب جھگڑا ختم ہو جاتا ہے- اگر ازالہ نہ ہو تو پھر ہماری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ چونکہ خوف وہمی ہے ہم حفاظتی تدابیر کو کم سے کم درجہ تک اختیار کریں تا کہ آئین اساسی بلاوجہ پیچیدہ نہ ہو- (یاد رکھنا چاہئے کہ اس وقت میرے مدنظر یہ امر ہے کہ ہندوستان کا فیصلہ کرتے وقت ایک تیسری قوم بطور جج یا مشیر کار کے شامل ہوگی اس لئے لازماً اس بحث میں اس فریق کو مدنظر رکھنا پڑے گا)- اگر خوف بناوٹی ہو تو اس کی حقیقت معلوم کر کے ہمیں نظر انداز کر دینا چاہئے- اگر حقیقی ہو تو ہمیں اس کے دور کرنے کی پوری کوشش کرنی چاہئے- کیونکہ اقلیت کی تباہی جمہوریت کے اصول کے ویسے ہی خلاف ہے جیسے کہ اکثریت کی تباہی- ہندوؤں کے افعال اور ان کے ارادوں کو بالتفصیل لکھ کر میں یہ ثابت کر چکا ہوں کہ مسلمانوں اور مسیحیوں اور انگریزوں (میں ہر جگہ اینگلو انڈین کو اس لفظ میں شامل سمجھوں گا) کا خوف حقیقی ہے پس ان کے خوف کا علاج ضروری ہے- گو ہندوستانی مسیحیوں میں سے ایک معقول تعداد کسی حفاظتی تدبیر کی ضرورت نہیں سمجھتی لیکن ان کے متعلق بھی خوف حقیقی ہے- لیکن وہ خود حفاظت نہ چاہیں تو زبردستی ان کے لئے ایسی تدابیر کا اختیار کرنا عقل کے خلاف ہوگا-