انوارالعلوم (جلد 11) — Page 295
۲۹۵ کو غلام رکھنا رہ جائے گا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کسی آزادی کے موقع پر ملک کے سب لوگ ان کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی ہستی بڑے خطرے میں پڑ جائے گی- مسلمانوں کی نجات کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ قوم پرستی کا ہے’‘- ۲۲؎ اس اعلان کے الفاظ کسی تشریح کے محتاج نہیں- آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کو صرف اسلام کے جُرم کی ہی سزا نہیں ملے گی بلکہ انگریزی حکومت سے تعاون کی بھی سزا ملے گی اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ لارڈارون (LORDIRWIN) اور مسٹربن BEN(۔(MR نے جو پچھلے دنوں مسلمانوں کی وفاداری کے متواتر اعلان کئے ہیں اس میں انہوں نے مسلمانوں کی خیر خواہی نہیں کی بلکہ مذکورہ بالا اعلان کی موجودگی میں ان کے موت کے وارنٹ (WARRANT) پر دستخط کئے ہیں- مسلمان کن شرائط پر ہندوستان میں رہ سکیں گے یہی ملکی خادم سا گر صوبہ سی-پی میں اپنی تقریر میں یہ بھی بیان کرتا ہے-: ‘’ہندوؤ! سنگھٹن کرو اور مضبوط بنو اس دنیا میں طاقت ہی کی پوجا ہوتی ہے- اور جب تم مضبوط بن جاؤ گے تو یہی مسلمان خود بخود تمہارے قدموں پر اپنا سر جھکا دیں گے’‘- ‘’جب ہم ہندو سنگھٹن کے ذریعہ سے خاطر خواہ طور پر مضبوط ہو جائیں گے- تو مسلمانوں کے سامنے یہ شرائط پیش کریں گے- (۱-) قرآن کو الہامی کتاب نہیں سمجھنا چاہئے۔۔۔۔۔۔۔(۲)- حضرت محمد کو رسول خدا نہ کہا جائے- (۳) عرب وغیرہ کا خیال دل سے دور کر دینا چاہئے- (۴) سعدی و رومی کی بجائے کبیر و تلسی داس کی تصانیف کا مطالعہ کیا جائے- (۵) اسلامی تہواروں اور تعطیلوں کی بجائے ہندو تہوار تعطیلات منائی جائیں- (۶) مسلمانوں کو رام و کرشن وغیرہ دیوتاؤں کے تہوار منانے چاہئیں- (۷) انہیں اسلامی نام بھی چھوڑ دینے چاہئیں اور ان کی جگہ رام دین، کرشن خاں وغیرہ نام رکھنے چاہئیں- (۸) عربی کی بجائے تمام عبادتیں ہندی میں کی جائیں’‘- ۲۳؎ پھر یہی صاحب فرماتے ہیں-: ‘’بھارت ورش کی قومی زبان ہے سنسکرت- عربی اور فارسی کو میں