انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 293

۲۹۳ نظر آتا ہے کہ گویا نعوذ باللہ اس ملک میں خدا تعالیٰ کی بادشاہت نہیں ہے اور یا تو وہ شخص اس علاقہ کو چھوڑ دیتا ہے یا پھر ڈر کر اپنا ارادہ ترک کر دیتا ہے- یہی ظلم مہذب دنیا کو حیران کر دینے کے لئے کافی ہے لیکن بعض جگہ ظلم اس سے بھی بڑھ جاتا ہے- چنانچہ پچھلے دنوں یو-پی میں ہندوؤں نے کمزور مسلمانوں کو ہندو بنانے کی کوشش شروع کی تو ایک ہندو ریاست جو اس علاقہ کے ساتھ تھی وہاں سپرنٹنڈنٹ پولیس نے خود کھڑے ہو کر اپنے سامنے ایک گاؤں کے لوگوں کو جبراً شدھ کیا- ایک بوڑھی عورت جہیہ نامی (میں نے اس کا نام اس لئے لکھ دیا ہے تا آئندہ نسلوں میں اس کی یاد قائم رہے( ایسی تھی جس نے انکار کیا اور صاف کہہ دیا کہ میں مذہب کو ہر گز قربان نہیں کروں گی- اسے طرح طرح سے دکھ دیا گیا لیکن وہ ساٹھ سالہ بڑھیا اپنے ایمان پر ثابت قدم رہی بلکہ ایک بڑی میٹنگ جو اس کی قوم نے شدھی کے متعلق غور کرنے کے لئے انگریزی علاقہ میں منعقد کی تھی، اس میں وہ کھڑی ہو گئی اور اس نے بڑے زور سے اعلان کیا کہ میں اپنے بچوں کو اپنے ہاتھ سے قتل کرنا پسند کروں گی لیکن اسلام کو نہیں چھوڑوں گی- اگر تم مردوں نے اس ظلم کا مقابلہ نہ کیا تو ہم عورتیں اس کا مقابلہ کریں گی- نتیجہ یہ ہوا کہ اس عورت کو پانی سے روک دیا گیا، اس کے کھیتوں کو کاٹنے سے روکا گیا، میں نے جب یہ واقعات سنے تو اپنی جماعت کے تعلیم یافتہ آدمیوں کو بھیجا کہ وہ اپنے ہاتھ سے اس کے کھیت کاٹیں اور چونکہ اس کو رہائش کی بھی تکلیف تھی اس کے لئے ایک مکان بنوا دیا اور اس غرض سے وہاں مبلغ بھیجے کہ ان لوگوں کو ڈھارس دیں اور اسلام کی طرف واپس لائیں لیکن ریاست نے جھٹ قانون بنا دیا کہ کوئی انگریزی علاقہ کا آدمی اس علاقہ میں رات کو نہ رہے- اس پر ہمارے مبلغ انگریزی علاقہ میں خیمے لگا کر رہنے لگے- صبح کو وہ وہاں سے چلے جاتے تھے اور شام کو واپس آ جاتے تھے- شدید گرمی میں ناقابل برداشت تکالیف اٹھا کر انہوں نے اس ظلم کا مقابلہ کیا۔۔۔۔۔۔۔لیکن حکومت برطانیہ کے دفاتر نے باوجود توجہ دلانے کے کوئی توجہ نہ کی کیونکہ ان کے خیال میں ریاستیں آزاد ہیں- جب کہ ریاستوں کے بارہ میں اس وقت ان کا یہ حال ہے تو کون امید کر سکتا ہے کہ آئینی گورنر آزاد صوبہ جات کے معاملات میں مسلمانوں کی خاطر دخل دے گا پس یہ حفاظتی تدبیر ہمیں کب تسلی دے سکتی ہے- یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ یہ متعصبانہ خیالات صرف بعض لوگوں کے ہیں- ایسا نہیں بلکہ ہندو قوم بدقسمتی سے بہ حیثیت قوم اس مرض میں مبتلا ہو چکی ہے اور صرف ایک قلیل تعداد