انوارالعلوم (جلد 11) — Page 292
۲۹۲ جہاں جہاں ہندوؤں کا زور ہے وہاں میونسپل قواعد ایسے بنائے گئے ہیں کہ گائے کا ذبیحہ بند ہو جائے، گورنمنٹ بھی مذبحوں کے کھولنے میں روکاٹ ڈالتی ہے- جہاں چھاؤنی ہو وہاں تو فوجیوں کے لئے گائے کا گوشت مہیا کرنے کے لئے خود سرکاری طور پر انتظام کیا جاتا ہے لیکن مسلمانوں کی ضرورت کو فساد کا موجب سمجھا جاتا ہے- انگریزی علاقہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بھی ناقابل برداشت ہے مگر ہندو ریاستوں میں جو کچھ ہوتا ہے وہ تو انتہاء سے بڑھا ہوا ہے اور اس سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ اگر ہندوستان میں آزاد حکومت ہوئی تو ہندو اس بارے میں مسلمانوں سے کیا سلوک کریں گے- کشمیر جس میں پچانوے فیصدی مسلمانوں کی آبادی ہے اس میں گائے ذبح کرنے پر کہتے ہیں کہ سات سال قید کی سزا مقرر ہے- اس کا الزام موجودہ مہاراجہ صاحب پر نہیں وہ ایسے والد کے بیٹے ہیں کہ جن کو اسلام سے انس تھا- وہ سلسلہ احمدیہ کے پہلے خلیفہ سے جب کہ وہ کشمیر میں شاہی طبیب تھے خاص انس رکھتے تھے اور انہیں بھائیوں کی طرح جانتے تھے- بلکہ ان کے والد کے تعلق کی وجہ سے ہی انہیں کشمیر چھوڑنا پڑا- پس میں انہیں خاص محبت اور عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں بے تعصب حکمران بننے کی توفیق دے گا اور وہ دوسرے ہندو راجوں کے لئے ایک عمدہ مثال قائم کریں گے- دوسری ریاستوں کا حال بھی کم خراب نہیں- ایک اعلیٰ انگریز پولیٹیکل افسر کی روایت ہے کہ میں ایک ریاست میں ریذیڈنٹ تھا- وہاں مسلمانوں نے گائے ذبح کر دی ان لوگوں سے ایک لاکھ روپیہ ریاست نے لے کر چھوڑا لیکن دوسرے ہی دن ایک بچہ کا قتل ہو گیا تو پچیس روپیہ پر معاملہ کو دبا دیا گیا وہ کہتے ہیں جب مجھے معلوم ہوا تو میں نے ریاست والوں کو ملامت کی- اس سے بھی بڑھ کر اب یہ ظلم ہو رہا ہے کہ بعض ہندو ریاستوں میں تبلیغ اسلام کو بالکل روک دیا گیا ہے اور وہ اس طرح کہ قانون بنا دیا گیا ہے کہ کوئی شخص عدالت میں حاضر ہوئے بغیر مذہب نہیں بدل سکتا- نتیجہ یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان ہندو ہونا چاہے تو اسے فوراً اجازت مل جاتی ہے لیکن اگر ہندو مسلمان ہونا چاہے تو بڑی لمبی تحقیقات ہوتی ہے- ان اشخاص کے نام دریافت کئے جاتے ہیں جنہوں نے اسے تبلیغ کی تھی- پھر انہیں بھی دق کیا جاتا ہے اور اس مسلمان ہونے کے خواہشمند کو بھی تکلیف دی جاتی ہے اور بعض دفعہ جھوٹے الزام لگا کر قید کر دیا جاتا ہے اور یہاں تک تنگ کیا جاتا ہے کہ اس کی نظروں میں دنیا تاریک ہو جاتی ہے اور یوں