انوارالعلوم (جلد 11) — Page 291
۲۹۱ ‘’قدیم آریوں کے ہاں گائے کے گوشت کھانے کی شہادت پائی جاتی ہے- لیکن دودھ نہ دینے والی گائیں شاذ و نادر ہی ماری جاتی تھیں’‘- ۱۹؎ ہندوؤں میں قربانی کا اس قدر رواج تھا کہ بدھ حکومتوں کے خلاف بغاوت کی وجہ یہ قرار دی گئی تھی کہ انہوں نے قربانی کو روک دیا تھا- چنانچہ مہامہوپادھیائے پنڈت ہرپرشاد شاستری لکھتے ہیں-: ‘’اس (اشوک کی ریاست کے خلاف ہندوؤں کی بغاوت) کا سبب جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے یہ تھا کہ اشوک نے اپنی حکومت میں جانوروں کی قربانی بند کر دی تھی- مگر پشیہ پتر نے تخت پر بیٹھتے ہی دارالخلافہ میں اشوسیدھ یگیہ کیا’‘- (جانور کی قربانی کی عبادت گزاری) ۲۰؎ اب یہ کیا تعجب کی بات نہیں کہ بدھوں کے زمانہ میں تو قربانی روکنے کو بغاوت کا ذریعہ بنایا گیا تھا اور اس زمانہ میں قربانی کی اجازت کو جنگ کا ذریعہ بنایا جاتا ہے- یقیناً مسلمانوں کے آخری زمانہ میں عوام الناس کو بھڑکانے کے لئے یہ ایک تدبیر ایجاد کی گئی تھی اور اسے ترقی دیتے دیتے اب ایک قومی خیال بنا لیا گیا ہے- گائے کے متعلق ہندو قوم کا ظلم اس قدر بڑھ گیا ہے کہ کوئی صوبہ ایسا نہیں جس میں گائے کی وجہ سے خون ریزی نہ ہو چکی ہو اور کوئی سال نہیں گزرتا کہ جس میں گائے کی قربانی کی وجہ سے فساد نہ ہو جاتا ہو حالانکہ مسلمان اپنے لئے گائے قربان کرتے ہیں اور خود کھاتے ہیں، ہندوؤں کو اس سے کیا تعلق- اور اس ظلم پر مزیدبرآں یہ بات ہے کہ ان فسادات پر ہندو قوم فساد کرنے والوں کو ڈانٹتی نہیں بلکہ ان کے لئے عذر تلاش کرتی ہے- پچھلے دس سال میں جس قدر فساد ہوئے ہیں ان کی اگر لسٹ بنائی جائے تو نوے فیصدی فسادوں کی بنیاد ہندوؤں کی طرف سے ثابت ہوگی- اور پھر ساتھ ہی یہ عجیب بات ثابت ہوگی کہ جو فساد مسلمانوں کی غلطی سے ہوئے ہیں ان پر مسلمانوں نے اپنی قوم کو بڑی سختی سے ڈانٹا ہے لیکن وہ نوے فیصدی فساد جو ہندوؤں کی طرف سے ہوئے ہیں ان پر ہندو قوم اور ہندو پریس نے یا تو الزام مسلمانوں پر لگانے کی کوشش کی ہے اور یا پھر فسادیوں کی تائید میں عذر تلاش کرنے لگ گئے ہیں- اب ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ ڈیماکریسی جس کا پہلا اصل یہ ہے کہ دوسرے کے فعل میں دست اندازی نہ کی جائے، وہ اور یہ طریق عمل کسی صورت میں یکجا نہیں رہ سکتے-