انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 290

۲۹۰ ان کے ہندو آفیسر نے سزائیں دلوائی ہیں- اس میں کوئی شک نہیں کہ الزام محکمانہ لگائے گئے ہیں لیکن ہر ایک شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ پندرہ بیس سالہ سروس کے بعد ایک ہی محکمہ میں ایک جماعت کے دو معزز افسر جو کانگریس کے پروپیگنڈا کی مخالفت کر رہے تھے ایک ہی ہندو افسر کے ذریعہ سے جو کانگریس کا موید ہے نالائق قرار پا جاتے ہیں تو ضرور اس میں کوئی بات ہوگی- آخر وجہ کیا ہے کہ ایک ہی کمیونٹی (COMMUNITY)کے دو افسر گرفت میں آ جاتے ہیں اور ایک ہی وقت میں گرفت میں آتے ہیں حالانکہ اس سے پہلے اپنی سروس کے لمبے عرصہ میں وہ ترقیات حاصل کرتے چلے آئے تھے اور محکمہ میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے- ممکن ہے بعض لوگ یہ خیال کریں کہ یہ نتیجہ غلط نکالا گیا ہے ہندوؤں کی مقررہ پالیسی یہ نہیں ہو سکتی اس لئے میں اس وقت ہندوؤں کے مشہور لیڈر بھائی پر مانند ایم- اے کی شہادت اس بارہ میں پیش کرتا ہوں- وہ ہندوستان کی مختلف رنگ میں خدمت کرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے جو ہندو گورنمنٹ سروس میں ہیں- ان کا نقطہ نگاہ یہ بیان کرتے ہیں- ‘’سرکاری مہربانی حاصل کرنے کی جدوجہد کریں اور کچھ سرکاری عہدے اپنے ہاتھ میں رکھیں اور سرکار کے ساتھ مل کر پہلے مسلمانوں کو کمزور کریں اور ہندوؤں کی طاقت بڑھا لیں- جب اس طرح طاقت بڑھ جائے گی تو پھر سوراج حاصل کرنے کے لئے کوشش کی جا سکتی ہے’‘-۱۸؎ یہ اس شخص کا بیان ہے جس نے لالہ لاجپت رائے کی زندگی کے آخری ایام میں ان سے بھی زیادہ ہندو قوم میں رسوخ اور طاقت پیدا کر لی تھی- تمدنی طور پر جو مسلمانوں کا بائیکاٹ ہو رہا ہے وہ بھی کم شدید نہیں- مسلمان ہندوؤں کو ملازم رکھتے ہیں لیکن ہندو مسلمان کو بہت ہی کم ملازمت دیتا ہے اور جب دیتا ہے تو صرف اپنے مطلب اور فائدہ کیلئے دیتا ہے- باجہ اور گائے کے سوال کو ایک عظیم الشان جھگڑے کا موجب بنایا ہوا ہے- وید کے زمانہ کے ہندو خود گائے کا گوشت کھایا کرتے تھے اور قربانیاں کیا کرتے تھے- چنانچہ رگوید اور اتھروید سے اس کا ثبوت ملتا ہے- اتھر وید کانڈ ۹- سوکت ۳ کے نویں منتر میں لکھا ہے کہ -: ‘’اہل خانہ گائے کا شیریں دودھ اور لذیذ گوشت مہمان کو کھلائے بغیر نہ کھائے’‘- پنڈت ابناس چندر داس ایم- اے لکھتے ہیں-: