انوارالعلوم (جلد 11) — Page 289
۲۸۹ جائے گا جس کا حل بالکل آسان ہوگا- مقدم بات یہ ہے کہ ملکیت ہندوؤں کے قبضہ میں آ جائے’‘- سرکاری ملازمتوں میں بھی یہ سگریگیشن (SEGREGATION) جاری ہے- پوری کوشش کی جاتی ہے کہ مسلمان اپنا جائز حق نہ لے سکیں- تمام محکمے ہندوؤں سے پر ہیں- ظاہر یہ کیا جاتا ہے کہ مسلمان ملتے نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہیں نالائق قرار دے کر رد کر دیا جاتا ہے- مسلمان عرضی دیتے ہیں تو اسے پھاڑ دیا جاتا ہے اور کہہ دیا جاتا ہے کہ کوئی جگہ نہیں- اسی دن یا دوسرے دن ہندو آ جاتا ہے تو اس کے لئے جگہ نکل آتی ہے- ایک معزز افسر تعلیم نے مجھ سے ذکر کیا کہ ایک مسلمان امیدوار ملازمت میرے پاس آیا اور میں نے اسے کہا کہ وہ دفتر میں عرضی دے دے- دوسرے دن اس نے مجھے آ کر کہا کہ ہیڈ کلرک نے اس پر یہ لکھ کر عرضی واپس کر دی ہے کہ کوئی گنجائش نہیں ہے- اسی دن یا دوسرے دن اس ہیڈ کلرک نے ایک ہندو کی عرضی میرے سامنے پیش کر دی کہ فلاں جگہ نکلی ہے اس پر اس شخص کو مقرر کیا جائے- میں نے اس سے پوچھا کہ فلاں مسلمان کی درخواست پر تو تم نے لکھا ہے کہ جگہ نہیں ہے اب اس ہندو کے لئے جگہ کہاں سے نکل آئی- تو کھسیانا سا ہو کر کہنے لگا کہ غلطی ہو گئی- اس کوشش کے علاوہ کہ مسلمان سروس میں نہ آ سکیں ایک منظم کوشش یہ بھی جاری ہے کہ مسلمان جو سروس میں آ چکے ہیں ان کو نکال دیا جائے- ہندو سنگھٹن کی ایک غرض یہ بھی تھی- چنانچہ سنگھٹن کی تحریک جو ۱۹۲۲ء سے شروع ہوئی اس کے معاً بعد پنجاب کے متعدد مسلمان افسروں کے خلاف مقدمات چلے اور انہیں ملازمتوں سے الگ کیا گیا- اور ان سب واقعات کی تہہ میں ہندو سنگھٹن کار فرما تھا- اگر کوئی مسلمان مسلمانوں کے حقوق ادا کرنے والا ہو یا گورنمنٹ کا ساتھ دینے والا ہو تو پھر اس کی شامت ہی آ جاتی ہے- اگر ایک آزاد کمیشن کے ذریعہ سے تحقیق کرائی جائے تو ناقابل تردید ثبوت اس امر کا مل جائے گا کہ اگر کسی مسلمان افسر نے چند مسلمانوں کو ملازمت دلائی ہو خواہ وہ ان کی تعداد کے حق کے لحاظ سے کم ہی کیوں نہ ہو تو اس مسلمان کے خلاف کیا اخبارات میں اور کیا دفاتر میں ایک شور پڑ جاتا ہے اور خفیہ شکایات کی بھی اس قدر بھرمار ہوتی ہے کہ اس کی کوئی حد نہیں رہتی- انہی چند ماہ میں احمدی چونکہ کانگریس کا مقابلہ کرتے رہے ہیں ہندوؤں کے ایک منظم پروپیگنڈا کے ذریعہ سے انہیں تکلیف پہنچائی جا رہی ہے- حال میں پنجاب کی ایک نہر کے ایک ڈپٹی کلکٹر اور ایک اسسٹنٹ انجنیئر کو