انوارالعلوم (جلد 11) — Page 276
۲۷۶ باب چہارم آزادی کے مختلف مدارج کس طرح مقرر کئے جائیں؟ پہلے باب کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم اس سوال پر غور کریں کہ اگر کامل آزادی فوراً نہیں مل سکتی اور یہ عارضی روک انگلستان نہیں بلکہ ہندوستان کے فائدہ کیلئے ہے تو پھر وہ کونسا طریق اختیار کیا جائے کہ جس کے ذریعہ سے بغیر ناواجب دیر کے ہندوستان کو ہر قدم پر اس قدر آزادی ملتی جائے جس قدر آزادی کا کہ وہ اس وقت مستحق ہو- اس سوال کے دو حل اس وقت تک تجویز کئے جا چکے ہیں- ایک حل مانٹیگو چیمسفورڈ رپورٹ۱۱؎ (MONTAGUE CHELMSFORD REPORT) میں تجویز کیا گیا ہے جو یہ ہے کہ تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد ایک رائل کمیشن بیٹھے جو یہ فیصلہ کرے کہ گذشتہ سالوں میں کس قدر ترقی ہندوستان نے کی ہے اور اب اس کے نظام اساسی میں کس قسم کی تبدیلی کی ضرورت ہے- اس حل کو سائمن کمیشن نے رد کر دیا ہے اور ہندوستان کی موجودہ شورش کا بہت بڑا حصہ اس حل کی طرف منسوب کیا ہے- میرے نزدیک یہ درست نہیں- جن حالات میں مانٹیگوچیمسفورڈ رپورٹ تیار ہوئی تھی ان کے ماتحت قیام امن کا بہترین علاج یہی تھا کہ ہندوستانیوں کو یہ یقین دلایا جائے کہ یہ سکیم آخری تجویز نہیں ہے بلکہ انہیں آئندہ تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد اختیارات ملتے چلے جائیں گے- وہ بالکل نیا تجربہ کر رہے تھے اور نہیں جانتے تھے کہ نتیجہ کیا نکلے گا اور ان کے سامنے ان آنے والے دس سالوں کی تاریخ نہ تھی جو