انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxx of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page xxx

انوار العلوم جلد !! ۲۲ تعارف کتب اس بارے میں اپنی ذمہ داری پہچانی چاہئے ۔ " ९९ تازه تصانیف کے سلسلہ میں حضور نے "سیرۃ خاتم النبين " مصنفه حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اور ” تفہیمات ربانیہ " مصنفہ محترم مولانا ابو العطاء صاحب کی تعریف فرمائی اور احباب کو تلقین کی کہ وہ ان سے فائدہ اٹھائیں اور ان کی اشاعت کریں۔ حضور نے اپنی تازہ تحریر فرموده کتاب ”ہندوستان کے سیاسی مسئلہ کا حل" کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ انگریزی اور اردو میں شائع ہو چکی ہے۔ مسلمانوں میں بیداری پیدا کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اس کی کثرت سے اشاعت ہو۔ دوستوں کو اس طرف بھی خاص توجہ دینی چاہئے۔ اس تقریر میں حضور نے مقابلہ میں قرآن کریم کے حقائق و معارف بیان کرنے کے متعلق مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کی تحریروں کا بھی مفصل جواب دیا اور آخر میں فرمایا :۔ میں امید کرتا ہوں کہ قرآن کریم کے معارف لکھنے کے متعلق جو میرا چیلنج تھا۔ اس کی پوری تشریح کر چکا ہوں اگر مولوی صاحب کو وہ منظور ہو تو اس کی قبولیت کا اعلان کر دیں۔" (۲۰) فضائل القرآن نمبر (۳) جلسہ سالانہ ۱۹۲۸ء پر حضور نے فضا فضائل القرآن کے موضوع پر تقاریر کا ایک سلسلہ شروع فرمایا جو ۱۹۳۶ء تک جاری رہا۔ اس عرصہ میں آپ نے چھ عظیم الشان تقاریر فرمائیں جن میں قرآنی معارف اور دقائق، سلیس اور نہایت مؤثر رنگ میں بیان فرمائے۔ نیز دلائل سے ثابت کیا کہ قرآن مجید ہی دیگر سب مذہبی کتب سے افضل کتاب ہے۔ یہ تقریر اس سلسلہ کی تیسری تقریر ہے جو حضور نے ۲۸ دسمبر ۱۹۳۰ء کو قادیان میں فرمائی۔ اس میں آپ نے صدقہ و خیرات اور مرد و عورت کے تعلقات کے متعلق اسلام کی جامع تعلیم بیان کی ہے۔ اولا حضور نے صدقہ و خیرات کے بارہ میں دیگر مذاہب کی تعلیم بیان کر کے اس کا اسلامی تعلیم سے موازنہ کیا اور بتایا کہ ہر پہلو سے قرآن کی بیان کردہ تعلیم جامع اور افضل ہے۔ آپ نے اس سلسلہ میں تعلیم اسلامی کی چودہ باتیں بیان کر کے فرمایا:۔