انوارالعلوم (جلد 11) — Page 265
۲۶۵ خواہش آزادی کے نہیں حاصل ہو سکتی- اور یہ امر بھی ویسا ہی صحیح ہے کہ جب یہ خواہش کسی ملک کے باشندوں میں پیدا ہو جائے تو ان کو آزادی سے محروم رکھنا آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے- ہندوستان کے گزشتہ واقعات سے یہ امر روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ ہندوستان میں اب یہ عام خواہش ہے کہ اسے آزادی حاصل ہو جائے- یہ تغیر اس قدر جلد ہوا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے- آج سے بارہ تیرہ سال پہلے میں تجربہ کی بناء پر کہا کرتا تھا کہ یہ خواہش صرف چند تعلیم یافتہ لوگوں میں ہے اور باقی لوگ اس سے ناآشنا ہیں- آج میں اپنے تجربہ کی بناء پر کہتا ہوں کہ اب یہ خواہش عوام الناس میں بھی پیدا ہو گئی ہے- بوجہ ایک مذہبی راہنما ہونے کے مجھے کثرت سے گاؤں کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ ان گوشوں میں جہاں تعلیم کا نام و نشان نہیں زمیندار شوق سے اس دن کے آنے کے متعلق گفتگو کر رہا ہوتا ہے کہ ہندوستان کو کب آزادی ملے گی؟ میں اس سوال کو بالکل ان پڑھ زمینداروں کے منہ سے سن کر محو حیرت ہو جاتا ہوں کہ ‘’کیا انگریز اب ہمارے ملک کو کچھ دیں گے بھی یا نہیں؟’‘ اس سوال کا کروڑوں انسانوں کے دلوں میں اس قدر جلد پیدا ہو جانے کا احتمال آج سے بارہ سال پہلے نہیں کیا جا سکتا تھا- اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا بڑا باعث جنگ عظیم ہے- ان دنوں میں برطانیہ نے ہندوستان کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے بڑی کثرت سے ملک میں اپنی مظلومیت اور جرمنوں کے ہاتھوں مختلف ممالک کی آزادی کے تباہ ہو جانے کا پروپیگنڈا کیا تھا- اس پروپیگنڈا نے بعض ایسے اصول سے ہندوستانیوں کو واقف کر دیا جنہیں خود ان کے لیڈر ان کے کانوں میں نہیں ڈال سکے تھے- بے شک یہ امر ایک بہت بڑا دخل اس تغیر میں رکھتا ہے لیکن کونسا تغیر دنیا کا بلاوجہ ہوا کرتا ہے- ایک وجہ اس تغیر کی یہ بھی ہے کہ ہندوستانیوں کو کانگریس نے ان کے بعض حقوق کے تلف ہونے کی طرف توجہ دلائی ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت برطانیہ کے بدلنے سے ان کے وہ حقوق انہیں مل جائیں گے اور ان کے بوجھ کم ہو جائیں گے- زمینداروں کی حالت پنجاب میں پچھلے چار سال سے بہت خراب ہے- فصلوں کی متواتر تباہی اور اس سال غلہ کا نرخ گر جانے کے سبب سے زمینداروں کی کمر بالکل ٹوٹ گئی ہے- انہیں یقین دلایا گیا ہے کہ حکومت کے تغیر سے ان کی یہ مشکلات دور ہو جائیں گی اور اس کی