انوارالعلوم (جلد 11) — Page xxvii
انوار العلوم جلد) ۱۹ تعارف کتب کامیابی سے اپنے مطالبات کانفرنس میں پیش کئے ۔ جس کا انگلستان کے صاحب رائے لوگوں پر گہرا اثر ہوا۔ اور وہ ہندوستان میں مسلمانوں کی خصوصی حیثیت کے قائل ہو کر ان کے مطالبات کی معقولیت اور افادیت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے۔ حضور کی یہ کتاب ہندوستان اور انگلستان دونوں جگہ بہت مقبول ہوئی اور اسے بڑی دلچسپی اور توجہ سے پڑھا گیا۔ اور کئی مدیر سیاستدانوں اور صحافیوں نے شاندار الفاظ میں حضور کو خراج تحسین پیش کیا۔ چنانچہ سرمون او بر ( SIR HONE OMILLAR) نے تحریر فرمایا :- امام اس چھوٹی سی کتاب کے ارسال کرنے کیلئے جس میں مسئلہ ہند کے حل کیلئے سماعت احمدیہ کی تجاویز مندرج ہیں میں تہہ دل سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ سائمن کمیشن کی تجاویز پر یہی ایک مفصل تنقید ہے جو میری نظر سے گزری ہے۔ میں اس اخلاص، معقولیت اور وضاحت کی داد دیتا ہوں جس سے کہ ہر ہولی نس (یعنی امام جماعت احمدیہ) نے اپنی جماعت کے خیالات کا اظہار کیا ہے اور میں ہنر ہوئی نس (HIS HOLLYNESS) کی بلند خیالی سے بہت متاثر ہوا ہوں"۔ (۱۷) افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۳۰ء جلسہ سالانہ کا افتتاح کرتے ہوئے حضور نے یہ تقریر ۲۶ دسمبر ۱۹۳۰ء کو قادیان میں فرمائی۔ آپ نے احباب جماعت کو توجہ دلائی کہ اللہ تعالی نے ہم پر عظیم الشان فضل فرمائے ہیں۔ اس نے ہمیں اس ہمیں اسلام جیسا نہ جیسا مذہب اور قرآن جیسی عظیم کتاب عطا فرمائی۔ پھر جب ہماری شامت اعمال اور گناہوں کی وجہ سے یہ کلام دنیا سے اُٹھ گیا تو اسے دوبارہ واپس لانے اور دین حق کو زندہ کرنے کیلئے اس زمانہ میں اپنا مامور بھیجا اور ہمیں اس کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم خدا اور اس کے رسول کا کلام سب لوگوں تک پہنچا ئیں۔ یہ ایک بہت بڑا کام ہے اور ہم نہایت کمزور ہیں۔ خدا تعالیٰ کی توفیق کے بغیر یہ کام پورا کرنا ممکن نہیں اس لئے ہمیں خدا تعالیٰ سے مدد اور توفیق طلب کرنی چاہئے۔ آپ نے احباب جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :۔ میں احباب سے درخواست کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ