انوارالعلوم (جلد 11) — Page 235
۲۳۵ امیر جماعت اور منصب امارت کی حقیقت بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ و نصلی على رسؤله الكريم امیر جماعت اور منصب امارت کی حقیقت (تحریر فرمودہ ۱۳- دسمبر ۱۹۳۰ء) بِلا اجازت استعفیٰ پچھلے دنوں چوہدری ابوالہاشم خان صاحب جنرل سیکرٹری صوبہ بنگال نے اپنے کام سے استعفیٰ دے دیا تھا اور اس وجہ سے صوبہ بنگال کے کام میں نقص پیدا ہونے لگا تھا- چونکہ پراونشل انجمن کے کارکن مرکز کی منظوری سے مقرر ہوتے ہیں اس وجہ سے چوہدری صاحب سے میں نے دریافت کیا کہ انہوں نے کیوں بلااجازت استعفیٰ دیا ہے- ان کے جواب سے معلوم ہوا کہ وہ موجودہ امیر کے کام سے خوش نہیں ہیں اور ان کے نزدیک بہتر یہی تھا کہ وہ استعفیٰ دے دیں تا کہ اس وجہ سے امیر صاحب کو کام کی طرف زیادہ توجہ پیدا ہو- میرے نزدیک یہ جواب ان کا بالکل ناکافی تھا- جب ایک افسر خلیفہ کی طرف سے منظور کیا جائے تو وہ صرف خلیفہ کے پاس ہی استعفیٰ پیش کر سکتا ہے اور خلیفہ کے پاس اس کی منظوری لینے سے پہلے استعفیٰ پیش کرنا اسلامی اصول کے مطابق درست نہیں ہے- مگر بہرحال چونکہ کام خراب ہونا شروع ہو گیا تھا اور چونکہ امیر کی تعیین موقت ہوتی ہے اس لئے میں نے صوبہ بنگال کے آئندہ نظام کے متعلق جماعت بنگال سے مشورہ لیا اور دریافت کیا کہ مرکز کہاں ہو اور بنگال کا امیر کسے مقرر کیا جائے- منصب امارت کی حقیقت جو جوابات موصول ہوئے ہیں ان سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ بنگال کے دوست ابھی پوری طرح امارت کے منصب کی حقیقت اور اس کی غرض کو نہیں سمجھے کیونکہ بہت سے دوستوں نے لکھا ہے کہ ہم لوگ کسی ایک امیر پر متفق نہیں ہو سکتے اس لئے امیر اگر کم سے کم کچھ عرصہ کے لئے قادیان سے آئے تو بہتر ہوگا یا یہ کہ اس وجہ سے ہم رائے نہیں دے سکتے لیکن اگر مجبور ہی کیا جائے تو فلاں یا فلاں