انوارالعلوم (جلد 11) — Page 231
انوار العلوم جلد ٣٣١ عرفان الہی اور محبت باللہ کا عالی مرتبہ خدا تعالیٰ کا حسن جلوہ گر تھا اور خدا ان کے ذریعہ دنیا میں ظاہر ہوا۔ مگر انسانوں کے دلوں کے بعض اور کینے، عداوتیں اور دشمنیاں دوسری قوموں کے خدا رسیدہ لوگوں کے دیکھنے میں روک بن رہی ہیں۔ ان سب روکوں کو دور کرتے ہوئے محمد سلیم فرماتے ہیں۔ یہ غلط ہے کہ خدا نے صرف ہندوستان میں اپنے آپ کو ظاہر کیا۔ یا صرف ایران میں اپنا جلوہ دکھایا بلکہ خدا ہر جگہ اور ہر ملک میں ظاہر ہوا۔ ایسا عرفان کہ جہاں خدا تعالیٰ نے اپنا جلوہ دکھایا۔ وہ محمد سلم نے مکہ میں بیٹھے ہوئے دیکھ لیا۔ وہ بے نظیر عرفان ہے۔ جس کی مثال نہیں ملتی۔ محمد سلم نے مکہ میں بیٹھے ہوئے دور شمال میں خدا تعالیٰ کا جلوہ دیکھا۔ اور جنوب میں خدا تعالیٰ کے پیاروں کو پایا ۔ دور مشرق اور مغرب میں خدا نما انسان دیکھے اور سینکڑوں ہزاروں سال کے بعد دیکھے ۔ یہ ہے وہ عرفان جس کے متعلق کہا جا سکتا ہے۔ بر رنگے کہ خوابی جامه ی پوش من انداز قدت را شناسم خواہ خدا بدھ کی شکل میں یا کنفیوشس کی شکل میں یا زرتشت کی شکل میں یا کرشن اور رام چندر کی شکل میں یا موسیٰ اور عیسی کی شکل میں یا کسی اور شکل میں جلوہ گر ہوا رسول کریم ملی کلیم نے دیکھ لیا۔ بعض لوگ کہتے ہیں محمد صلی علیہم گذشتہ انبیاء سے آخر میں پیدا ہوئے تو اس سے انہیں کیا فضیلت حاصل ہو سکتی ہے۔ میں کہتا ہوں ذرا سوچو تو سہی ساری دنیا خدا کی اولاد کی طرح ہے۔ اگر چہ باپ بیٹے کے نقشوں میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ مگر پھر بھی کہیں نہ کہیں ضروری جھلک پائی جاتی ہے۔ اور بیٹے کی باپ سے مشابہت ظاہر ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی جو تمام انسانوں کا خالق ہے اس کی مشابہت بھی مخلوق سے ہونی چاہئے۔ اور اعلیٰ درجہ کے بندوں سے زیادہ اس کی مشابہت ہونی چاہئے۔ یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک چھوٹا بھائی گم ہو جائے اور جب کہیں ملے تو بڑا بھائی اسے پہچان لے مگر اس سے چھوٹا جو گم ہونے والے کے بعد پیدا ہوا ۔ وہ اگر گم ہونے والے بھائی کو پہچان لے تو ان سے میں کون بڑا عارف ہو گا۔ یقینا وہی بڑا عارف ہو گا جس کے دیکھنے سے بھی پہلے اس کا بھائی گھر سے نکل گیا تھا۔ مگر جب اس نے دیکھا تو اسے فوراً پہچان لیا۔ ایک بھائی دوسرے بھائی کو کس طرح پہچانتا ہے۔ اسی طرح کہ اس میں اپنے باپ کی کچھ نہ کچھ مشابہت پالیتا ہے۔ اور اس طرح بھائی کا پہچاننا باپ کا پہچانتا ہو تا ہے ۔ جب محمد میں ہم نے اپنے