انوارالعلوم (جلد 11) — Page 230
انوار العلوم جلدا ۲۳۰ فان الهی اور محبت باللہ کا عالی مرتبہ کوئی تعلق نہ تھا بلکہ عداوت تھی اور ایسے انسان میں جسے اس کی اپنی قوم گمراہ خیال کرتی تھی۔ رسول کریم میں ہم نے خدا کا نظارہ دیکھ لیا۔ اس سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کے جلوہ کو دیکھنے کا اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے۔ پھر اسی ہندوستان میں ایک اور مثال دیکھتے ہیں کہ ایک بچہ بادشاہ کے گھر پیدا ہوتا ہے۔ اسے ہر قسم کی نعمتیں حاصل ہیں۔ باپ پیدا ہوتے ہی اسے الگ محل میں بند کرا دیتا ہے کیونکہ اس نے خواب میں دیکھا تھا کہ اس کا لڑکا حکومت کو چھوڑ چھاڑ کر گھر سے نکل جائے گا۔ اس وجہ سے اس نے یہ انتظام کیا کہ اس بچہ کی نظر سے کوئی دکھ اور مصیبت کا نظارہ نہ گذرے۔ آخر وہ بچہ ایک دن کسی طرح اس محل سے باہر نکلا۔ اور بادشاہ نے حکم دے دیا کہ جدھر سے گزرے وہاں کوئی مصیبت زدہ اس کے سامنے نہ آئے۔ مگر خدا کی مرضی راستہ میں ایک اپانچ پڑا ہوا مل گیا۔ لوگوں نے اسے الگ ڈال دیا۔ مگر شہزادہ اسے دیکھ کر ٹھر گیا اور پوچھا یہ کیا چیز ہے۔ میں نے تو ایسی چیز کبھی نہیں دیکھی۔ مصاحبین نے شاہزادہ کی توجہ اس سے ہٹانی چاہی مگر اس پر بڑا اثر ہوا اور اس نے اصرار سے اپانچ کی حالت دریافت کی اور کہا ایسی چیز ہمارے محل میں تو نہیں ہوتی۔ آخر وہ محل میں گیا اور اپاہج کے متعلق سوچتا رہا۔ کئی دن کے بعد پھر میر کے لئے نکلا۔ بادشاہ نے مصاحبین کو تاکید کر دی کہ کوئی مصیبت زدہ اس کے سامنے نہ آئے۔ مگر جس طرف سے گزر رہا تھا ادھر سے ایک جنازہ نکلا۔ جس پر اس کی نظر پڑ گئی۔ اس نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ ساتھ والوں نے بتایا ۔ ایک انسان مر گیا ہے۔ یہ اس کی لاش ہے۔ یہ سن کر وہ پھر فکر میں پڑ گیا۔ تیسری بار پھر جب سیر کے لئے نکلا تو ایک بڑھا دیکھا جو بہت کمزور اور ضعیف ہو چکا تھا۔ اس نے جب پوچھا یہ کیا ہے تو اسے بتایا گیا کہ انسان بڑی عمر کا ہو کر اس طرح جاتا ہے۔ ان نظاروں کے دیکھنے کا نتیجہ یہ ہوا ہوا کہ وہ سمجھا۔ اس دنیا کا آرام و آسائش سب پیچ ہے۔ کوئی ایسی راہ نکالنی چاہئے کہ انسان ان دکھوں سے بچ جائے۔ اس کی شادی ہو چکی تھی اور اس کے ہاں بچہ بھی پیدا ہو چکا تھا۔ مگر ایک رات وہ بیوی اور بچہ کو سوتے چھوڑ کر محل سے باہر نکل گیا اور مدتوں خدا تعالیٰ کی تلاش میں پھرتا رہا۔ آخر اس نے خدا تعالیٰ کو پالیا اور اس کا نام بدھ یعنی عقل مجتم ہوا۔ اس وقت اس کے ملک کے لوگوں نے اس کی صداقت بھری باتوں کا انکار کیا اور اب بھی کئی لوگ انکار کرتے ہیں۔ مگر اس عارف نے جو عرب کی سرزمین میں پیدا ہوا بتا دیا ۔ اِنْ مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيرٌ - ملے اس انسان میں بھی خدا کا جلوہ تھا۔ غرض دنیا کے ہر حصہ میں ایسے وجود ہوتے ہیں جن کو دیکھ کر ماننا پڑتا ہے کہ ان میں ہو