انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 227

انوار العلوم جلد!! ۲۲۷ عرفان الهی اور محبت باللہ کا عالی مرتب آخری گھڑیوں کے متعلق لکھا ہے۔ اس وقت آپ کی زبان پر اس مفہوم کے الفاظ تھے کہ خدا تعالیٰ یہود اور عیسائیوں پر لعنت کرنے۔ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا اس موقع سے یہود اور عیسائیوں کا کیا تعلق تھا۔ سننے والے تو مسلمان تھے پھر رسول کریم ملی ام نے یہ کیوں فرمایا۔ اس لئے کہ مسلمان آپ کی قبر کو ایسا نہ بنا لیں اور اس کا خطرہ اس وجہ سے آپ کو معلوم تھا کہ لوگوں نے مجھ میں خدا کو خدا کو دیکھا ہے۔ اور اس بات کا ! کا یقین آپ کو آخر تھا کہ آ۔ وقت میں بھی تھا۔ غرض رسول کریم میں ایم عرفان الہی کے ایسے اعلیٰ مقام پر پہنچے ہوئے تھے اور اپنے اندر خدا تعالیٰ کا ایسا جلال دیکھتے تھے کہ سمجھتے تھے آ آپ پر کوئی حملہ نہیں کر سکتا۔ بیسیوں واقعات ایسے پائے جاتے ہیں مگر اختصار کے لئے انہیں چھوڑتا ہوں ۔ اس موقع پر میں یہ بھی بتادوں کہ ایک قسم کی دلیری کا اظہار سنگ دلی کی وجہ سے بھی بعض لوگ کر دیا کرتے ہیں۔ ایک ڈاکٹر نے سنایا کہ ایک زمیندار کو آپریشن کرنے کیلئے کلوروفارم دینا چاہا تو اس نے کہا اس کی ضرورت نہیں میں یونہی آپریشن کرالوں گا۔ چنانچہ اس نے بغیر کلورو فارم کے آپریشن کرا لیا تو ایسے لوگ ہوتے ہیں جو تکلیف اور دکھ بآسانی برداشت کر لیتے ہیں مگر وہ ایسے ہی ہوتے ہیں جن میں رحمت کا مادہ نہیں ہوتا اس بارے میں جب ہم رسول کریم میں کے متعلق دیکھتے ہیں تو آپ کی طبیعت ایسی معلوم ہوتی ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں کا آپ کی طبیعت پر بہت بڑا اثر ہوتا تھا۔ حدیثوں میں آتا ہے جب کبھی زور کی آندھی یا بارش آتی تو رسول کریم میں یہ گھبرا جاتے۔ پس ایک طرف تو رسول کریم میں یہ اللہ تعالیٰ کے استغناء اور صفات کو صفات کو دیکھتے تو آپ کے قلب کی نرمی آندھی اور بارش آنے پر بھی ظاہر ہو جاتی اور دوسری طرف بڑی سے بڑی تکلیف کی بھی کوئی پرواہ نہ کرتے۔ غرض رسول کریم میں اسلام کے دل میں نرمی اور را رافت تھی اس کثرت سے تھی کہ معمولی معمولی واقعات پر آپ کے آنسو نکل آتے تھے۔ تھے۔ پس آپ نے مصائب اور شدائد کے مقابلہ میں جس قوت اور حوصلہ کا اظہار کیا اس کی وجہ قساوت قلبی نہ تھی بلکہ وہ عرفان اللہی کا نتیجہ تھا۔ اور دوسرا درجہ عرفان کا یہ ہوتا ہے کہ کامل ذاتوں میں خدا تعالیٰ کو پہچانا جائے۔ یہ بھی بہت بڑا کام ہے۔ دنیا میں کئی لوگ عارف ہوتے ہیں مگر ان کی پہچان اپنے تک ہی رہ جاتی ہے۔ کامل عارف کی مثال تیز نظر والے کی ہوتی ہے۔ ایک انسان دس گز پر کوئی چیز دیکھ سکتا ہے۔ دوسرا