انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 224

انوار العلوم جلدا ۲۲۴ عرفان الهی اور محبت یاللہ کا عالی مرتبہ ہے۔ جس کا منہ دو تین گز چوڑا ہو گا۔ اس میں جا کر ٹھہر گئے جب مکہ کے لوگوں کو پتہ لگا کہ آپ چلے گئے ہیں تو انہوں نے آپ کا تعاقب کیا۔ عرب میں بڑے بڑے ماہر کھوجی ہوا کرتے تھے۔ ان کی مدد سے تعاقب کرنے والے عین اس مقام پر پہنچ گئے ۔ جہاں رسول کریم ملی تایم اور حضرت ابو بکر بیٹھے تھے۔ خدا کی قدرت کہ نمار کے منہ پر کچھ جھاڑیاں آگی ہوئی تھیں جن کی شاخیں آپس میں ملی ہوئی تھیں۔ اگر وہ لوگ شاخوں کو ہٹا کر اندر دیکھتے تو رسول کریم ملی ایم اور حضرت ابو بکر بیٹھے ہوئے نظر آجاتے۔ جب کھوجی وہاں پہنچے تو انہوں نے کہا کہ یا تو وہ آسمان پر چڑھ گئے ہیں یا یہاں بیٹھے ہیں اس سے آگے نہیں گئے۔ خیال کرو اس وقت کیسا نازک موقع تھا۔ اس وقت حضرت ابو بکر گھبرائے مگر اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ رسول کریم مل کیلئے۔ اس وقت رسول کریم مسلم نے فرمایا لا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا - ل گھبراتے کیوں ہو۔ خدا تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ اگر رسول کریم میں یہ خدا تعالیٰ کو اپنی ذات میں نہ دیکھتے تو کس طرح ممکن تھا کہ ایسے نازک وقت میں گھبرا نہ جاتے۔ قوی سے قوی دل گردہ کا انسان بھی دشمن سے عین سر پر آجانے سے گھبرا جاتا ہے۔ مگر رسول کریم ملی کے بالکل قریب بلکہ سر پر آپ کے دشمن کھڑے تھے اور دشمن بھی وہ جو تیرہ سال سے آپؐ کی جان لینے کے درپے تھے اور جنہیں کھوجی یہ کہہ رہے تھے کہ یا تو وہ آسمان پر چڑھ گئے ہیں یا یہاں بیٹھے ہیں۔ اس جگہ سے آگے نہیں گئے ۔ اُس وقت رسول کریم می فرماتے ہیں۔ لا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا خدا تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے تمہیں گھبرانے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کا عرفان ہی تھا جس کی وجہ سے آپ نے یہ کہا۔ آپ خدا تعالیٰ کو اپنے اندر دیکھتے تھے اور سمجھتے تھے کہ میری ہلاکت سے خدا تعالیٰ کے عرفان کی ہلاکت ہو جائے گی اس لئے کوئی مجھے ہلاک نہیں کر سکتا۔ ایک دوسرے موقع پر رسول کریم میں اللہ کا عرفان اس طرح ظاہر ہوا کہ مکہ کے قریب کا ایک آدمی تھا جس کا ابو جہل کے ذمہ کچھ قرضہ تھا۔ اس نے ابو جہل سے قرضہ مانگنا شروع کیا مگر وہ لیت و لعل کرتا رہا۔ اس زمانہ میں مکہ کے شرفاء نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی تھی جس کا کام یہ تھا کہ جو لوگ مظلوم ہوں ان ہوں ان کی امداد کرے۔ اس میں رسول کریم میں یہ بھی شامل تھے۔ وہ شخص رسول کریم صلی اللہ کے پاس آیا اور کہا کہ ابو جہل نے میرا روپیہ مارا ہوا ہے آپ مجھے اس سے حق لے دیں۔ رسول کریم میں سلیم نے اسے یہ نہ نہ کہا کہ ابو ابو جهل میرا دشمن ہے میرے خلاف شرارتیں کرتا رہتا ہے بلکہ کہا۔ آؤ میرے ساتھ چلو۔ آپؐ ابو جہل کے