انوارالعلوم (جلد 11) — Page 222
۲۲۲ عرفان ِالہٰی اور محبت باللہ کا وہ عالی مرتبہ قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ اگر تم خدا تعالیٰ کو ملنے کی خواہش رکھتے ہو تو آؤ اس کا ذریعہ میں تمہیں بتاؤں کہ کس طرح مل سکتے ہو- اس سے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ انسان کو مل سکتا ہے- دوسری جگہ اس بات کی اس طرح تصدیق کی گئی کہ فرمایاوالذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا ۳؎جو ہم تک پہنچنے کے لئے کوشش کرتے ہیں- ہم اپنی ذات کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ وہ ہمیں پا لیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہر قوم اور زمانہ میں ایسے لوگ گذرے ہیں جنہوں نے کہا کہ خدا مل گیا- مثلاً ایران میں حضرت زرتشت نے کہا- ہندوستان کے کئی بزرگوں حضرت کرشن، حضرت رام چندر، حضرت بدھ کے کلام کو دیکھا جائے گا تو صاف طور پر یہ ذکر ملتا ہے کہ خدا کو ہم نے پا لیا- چین میں کنفیوشس ایسے ہی بزرگ گذرے ہیں- شام میں حضرت موسیٰ علیہ السلام مل جاتے ہیں- عرب میں حضرت صالح اور حضرت ہود پائے جاتے ہیں- غرض جہاں بھی جائیں ایسے انسان وہاں پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے کہا کہ وہ خدا کو مل گئے اور خدا انہیں مل گیا- یہ ایسی پختہ اور اتنی عام فہم بات ہے کہ اگر اس کا انکار کیا جائے تو دنیا میں کوئی صداقت رہتی ہی نہیں- کیونکہ اگر یہ لوگ جھوٹے ہو سکتے ہیں تو پھر دنیا میں اور کوئی سچا نہیں ہو سکتا- غرض الذین جاھدوا فینالنھدینھم سبلنا میں خدا تعالیٰ نے بتا دیا کہ جو مجھ سے ملنے کی کوشش کرتا ہے وہ مجھے پا لیتا ہے- پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے-یدبرالامر یفصل الایات لعلکم بلقاء ربکم توقنون ۴؎ خدا اپنی باتوں کو اندازہ سے رکھتا ہے اور جہاں جہاں کے متعلق کوئی چیز ہوتی ہے وہاں کھولتا اور تشریح کرتا ہے- تا کہ اس کے بندوں کو اپنے رب کے لقاء پر یقین ہو جائے- پس پہلی بات جو رسول کریم ﷺ نے اس آیت کے ذریعہ دنیا کو بتائی وہ یہ ہے کہ خدا بندوں کو مل سکتا ہے- دوسری بات یہ فرمائی کہ عرفان حاصل کرنے کے لئے سنجیدگی اور کوشش کی ضرورت ہے کیونکہ فرمایا فاتبعونی خدا کے ملنے کے لئے کچھ کرنا پڑے گا- تیسری بات یہ بیان فرمائی کہ عرفان کے حصول کے لئے صحیح راہ کی ضرورت ہوتی ہے- اور اس کے لئے عارف کی اتباع کی ضرورت ہے چنانچہ دوسری جگہ آتا ہے کونوا مع الصادقین ۵؎صادقین کے ساتھ مل جاؤ-