انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 221

انوار العلوم جلد ۲۲۱ حرفان الهی اور محبت باللہ کا عالی مرتبہ گا۔ مگر بولنے والے انسان میں اسے کچھ نہ نظر آئے گا کیونکہ رقابت کی وجہ سے اس میں دیکھنا مشکل ہوتا ہے تو یہ تیسرا درجہ ہے۔ اس سے اتر کر چوتھا درجہ باقی مخلوق میں خدا تعالی کو دیکھنا ہے۔ اس میں بھی خدا تعالی کی رؤیت کے اعلیٰ مقامات ہیں۔ پھر پانچواں مقام یہ ہوتا ہے کہ انسان دوسروں کو خدا دکھائے ۔ ہر کمال ، جو انسان کو حاصل ہوتا ہے اس کے دو درجے ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ انسان خود اسے سمجھے۔ دوسرے یہ کہ دوسروں کو سمجھا سکے۔ ایک طالب علم خود جس قدر جغرافیہ اور تاریخ سمجھ سکتا ہے اسے اگر کہا جائے کہ اسی قدر دوسرے لڑکوں کو سمجھا دو تو وہ نہیں سمجھا سکے گا۔ پس پانچواں مقام یہ ہے کہ انسان دوسروں کو خدا دکھا سکے۔ وقت کی کمی کی وجہ سے میں مضمون کو مختصر کر رہا ہوں ورنہ خدا تعالٰی کی شناخت کے اور بھی مقام ہیں ۔ اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کو پہچان لینے کی علامتیں کیا ہوتی ہیں۔ بعض لوگ دوسروں کو پہچان لیتے ہیں مگر وہ خود نہیں پہچانے جاتے۔ انسانوں میں اس قسم کا معاملہ روز ہوتا ہے مگر خدا تعالیٰ اور بندہ میں اس طرح نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ بندہ کا علم محدود ہوتا ہے وہ پہچاننے والوں کو پہچاننے سے محروم ہو سکتا ہے۔ مگر خدا تعالیٰ سب کو جانتا ہے۔ اس لئے دیتا ہے۔ جب کوئی بندہ خدا تعالیٰ کو پہچان لے تو خدا تو خدا تعالیٰ بھی اپنی پہچان فورا اس پر ظاہر کر دیتا ۔ خدا تعالیٰ سب کو پہچانتا ہے مگر بندوں کو اعلیٰ مقام پر پہنچانے کے لئے اپنے مقام کو ان سے مخفی رکھتا ہے۔ لیکن جب بندہ اس کی تلاش کرتا اور ا ا اور اسے پہچان لیتا ہے تو خدا تعالٰی بھی بندے پر ظاہر کر دیتا ہے کہ میں تمہیں پہچانتا ہوں۔ پس خدا تعالیٰ کو بندہ کے پہچاننے کا ثبوت یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ بندہ کو پہچان لے۔ جب بندہ خدا تعالیٰ کو پہچان لیتا ہے تو خدا تعالٰی بھی اسے جواب میں پہچانتا ہے۔ عام عرفان کے متعلق رسول کریم میں ہم نے ایک آیت پیش فرمائی ہے۔ اس میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں۔ میں پہلے وہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔ خدا تعالی فرماتا ہے ۔ قُلْ إِن كُنتُم تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله کہ اگر تم اللہ تعالی سے محبت پیدا کرنا چاہتے ہو تو میری اتباع کرو۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اللہ تعالی تم سے محبت کرنے لگ جائے گا۔ اس آیت میں پانچ باتیں بیان کی گئی ہیں۔ اول یہ کہ خدا تعالیٰ کو انسان پا سکتا ہے۔ پہلے جتنے بزرگ گزرے ہیں جب انہوں نے یہ کہا کہ ہم نے خدا کو پا لیا تو انہوں نے غلط نہ کہا بلکہ بالکل درست کہا کیونکہ انسان خدا کو پا سکتا ہے۔ چنانچہ خدا تعالی رسول کریم ملی کو فرماتا ہے۔