انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 164

۱۶۴ صرف صدیق اور شہداء بنتے تھے مگر اس نبی کی اطاعت سے نبوت کا درجہ بھی حاصل ہو سکتا ہے۔حضرت داؤد ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ نے یہ نہیں کہا کہ ہمیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اتباع سے نبوت ملی ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ا س بات پر زور دیا اور بار بار اس کا اعلان کیا کہ مجھے محض رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی غلامی میں درجہ نبوت حاصل ہوا ہے۔انبیاء اور صدیقین وغیرہ کی معیت کا مفہوم بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ یہاں مَعَ الَّذِیْنَ آیا ہے جس کا یہ مطلب نہیں کہ اﷲ اور اس رسول کی اطاعت سے کوئی نبی بن سکتا ہے بلکہ یہ ہے کہ قیامت کے دن اسے انبیاء کی معیت حاصل ہو گی۔اس کا ایک جواب تویہ ہے کہ اگر نبی بننے کی نفی کی جائے گی تو اس کے ساتھ ہی صدیق ، شہید اور صالح بننے کی نفی بھی کر نے پڑے گی۔اور یہ ماننا پڑے گا کہ نعوذ باﷲ امت محمدیہؐ میں اب کوئی صدیق ، شہید اور صالح بھی نہیں بن سکتا۔لیکن اگر صالحیت ، شہادت او ر صدیقیت کا مقام حاصل ہو سکتا ہے تو پھر نبوت کا انعام بھی حاصل ہو سکتا ہے۔لیکن اس پر یہ سوال ضرور پیدا ہو تا ہے کہ جب قرآن کریم کا کوئی لفظ حکمت کے بغیر نہیں ہے تو پھر یہاں مَعَ کا لفظ لانے کی کیا ضرورت تھی۔جیسا کہ دوسری جگہ مَعَ الَّذِیْنَ نہیں رکھا بلکہ صرف یہ فرمایا کہ وہ صدیق اور شہید ہو نگے۔اسی طرح یہاں بھی کہا جا سکتا تھا۔اس کا جواب یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے مَعَرکھ کر اس طرف توجہ دلائی ہے کہ اس رسول کی اطاعت کرنے والے صرف صدیق ہی نہیں ہو نگے بلکہ سب امتوں کے صدیقوں کی خوبیاں ان میں آ جائیں گی۔صرف شہید ہی نہیں ہونگے بلکہ پہلے سب شہیدوں کی صفات کے جامع ہو نگے۔صرف صالح ہی نہیں ہونگے بلکہ پہلے صالحین کی سب خوبیاں اپنے اندر رکھتے ہو نگے۔اسی طرح جو نبی آئے گا وہ پہلے سب نبیوں کی خوبیوں اور کمالات کا بھی جامع ہو گا۔پس مَعَ نے رسول کریم صلی اﷲ علیہ واٰلہ وسلمکی اطاعت کے نتیجہ کو بڑھا دیا ہے گھٹایا نہیں۔اور بتایا ہے کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ واٰلہ وسلم کی اطاعت سے جو مرتبہ حاصل ہو تاہے وہ پہلے لوگوں کے مراتب سے بہت اعلیٰ اور ارفع ہے۔ہر قسم کی ملاوٹ سے پاک کلام (۵) ایک اور وجہ فضیلت یہ ہو تی ہے کہ جو چیز پیش کی جائے اس میں کسی قسم کی ملاوٹ نہ ہو۔قرآن کریم کی فضلیت اس لحاظ سے بھی ثابت ہو تی ہے۔قرآن کریم میں ایک آیت ہے جس کے متعلق لوگ بحث کرتے رہتے ہیں کہ اس کی کیا ضرورت ہے۔آج میں یہ بتاتا ہوں کہ وہ اپنے مطالب کے