انوارالعلوم (جلد 11) — Page 163
انوار العلوم جلد 11 ۱۶۳ فضائل القرآن (۲) هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولاً مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمْ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلْلٍ مُّبِيْنٍ - وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ۔ یعنی وہی خدا ہے جس نے ایک ان پڑھ قوم کی طرف اس میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر بھیجا جو ان کو خدا کے اد احکام سنتا اور ان کو پاک کرتا اور ان کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے گو وہ اس سے پہلے بڑی بھاری گمراہی میں مبتلا تھے۔ اسی طرح ان لوگوں کے سوا اللہ تعالٰی ایک دوسری قوم میں بھی اس رسول کو بھیجے گا جو ابھی تک ان سے ملی نہیں اور وہ غالب اور حکمت والا ہے۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ جو کچھ اس رسول کے زمانہ میں ہوا وہی اس زمانہ میں بھی ہو گا اور یہ سلسلہ جاری رہے گا بند نہ ہو گا۔ (۴) فضیلت کی ایک اور وجہ فائدہ کی شدت کے لحاظ سے قرآن کریم کی فضیلت فائدہ کی شدت کے لحاظ سے ہوتی ہے۔ یعنی کو فائدہ تو اور چیزوں میں بھی ہوتا ہے مگر جس چیز کا فائدہ اپنی شدت میں بہت بڑھا ہوا ہوتا ہے اسے دوسروں پر فضیلت دی جاتی ہے۔ قرآن کریم کے متعلق جب ہم یہ بات دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کو اس بارے میں بھی فضیلت حاصل ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ۔ الا یعنی اے مسلمانو! تم ہمیشہ اللہ تعالٰی سے یہ دعا مانگتے رہو کہ اے اللہ ! ہمیں سیدھا رستہ دکھا اور اس رستہ پر چلا جس پر چل کر پہلے لوگوں نے تیرے انعامات حاصل کئے۔ گویا جس قدر انعامات تو نے پہلے لوگوں پر کئے ہیں وہ سب کے سب ہم پر بھی کر۔ اور پہلے لوگوں کے انعامات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ ح یعنی وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے وہی اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہداء کا درجہ پانے والے ہیں۔ اس آیت میں بتایا کہ تمام امتوں میں شہداء اور صدیقوں کا دروازہ کھلا تھا۔ مگر جہاں رسول کریم ملی کا ذکر کیا وہاں فرمایا ۔ وَ مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيِّنَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا ۔ اسلحہ یعنی وہ لوگ جو اللہ اور اس رسول کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں میں شامل ہونگے جن پر خدا تعالیٰ کے انعامات نازل ہوئے یعنی نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں اور صالحین میں۔ گویا پہلے نبیوں کی اطاعت سے تو