انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 161

۱۶۱ کر کہتے ہیں کہ انہیں ضرور اپنے رستوں کی طرف آنے کی توفیق بخشیں گے اور اﷲ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ محسنوں کا ساتھ دیتا ہے۔اس آیت میں بتایا کہ ایسے لوگ جتنا ہماری طرف چل کر آ سکیں گے اتنا اگر چلیں گے۔تو جب ان کے پیر چلنے سے رہ جائیں گے ہم خود جا کر انہیں لے آئیں گے۔کیونکہ ہمارا یہ طریق ہے کہ کچھ بندہ آتا ہے اور کچھ ہم اس کی طرف جاتے ہیں۔یہاں وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا الخمیں یہ بتایا کہ قرآن خدا پر افتراء نہیں اگر یہ جھوٹ ہوتا تو اس کے بنانے والا عذاب میں مبتلاء کیا جاتا۔پھر وَالَّذِیْنَ جَاھدُوْا فِیْنَا لَنَھدِیَنَّھمْ سُبُلَنَا میں یہ بتایا کہ جھوٹ کوئی اس وقت بولتا ہے جب سچائی سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے۔لیکن جب ہم نے کلام نازل ہو نے کا دروازہ کھلا رکھا ہے اور ہم نے کہہ دیا ہے کہ محسن بن جاؤ تو اﷲ تعالیٰ تک پہنچ جاؤ گے تو کیوں سچی کوشش کر کے سچا کلام حاصل نہ کیا جائے۔جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے۔رضائے الٰہی حاصل کرنے والا کامیاب گروہ اس آیت کے متعلق یہ سوال پیدا ہو تا ہے کہ اس میں تو صرف یہ بتایا گیا ہے کہ ہم ایسا کریں گے۔سوال یہ ہے کہ کیا خدا تعالیٰ نے ایسا کیا بھی ہے یا نہیں؟ سو اگرچہ اس سوال کا جواب اسی آیت میں آجاتا ہے۔چونکہ خدا تعالیٰ سے اتّصال اس کاہوگا جو مناسب روحانی تکمیل حاصل کر چکا ہو اور وہ جنت بھی پائے گا۔لیکن علیحدہ علیحدہ بھی ان باتوں کا اﷲ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ اﷲ تعالیٰ سے کامل تعلق رکھنے والے آخر قرآن پر چل کر اپنی مراد کو پہنچ گئے اور انہوں نے جنت پا لی۔چنانچہ فرماتا ہے مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھدُوا اللّٰہَ عَلَیْہٖ فَمِنْھمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَہٗ وَمِنْھمْ مَّنْ یَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلاً۔لِیَجْزِیَ اللّٰہُ الصَّادِقِیْنَ بِصِدْقِھمْ وَیُعَذِّبَ الْمُنَافِقِیْنَ إِنْ شَآءَ أَوْ یَتُوْبَ عَلَیْھمْ إِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوراً رَّحِیْماً ۶۵؂فرمایا۔ان مومنوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں کہ انہوں نے خدا تعالیٰ سے جو عہد کیا تھا اسے انہوں نے پورا کر دیا۔فَمِنْھمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَہ‘ وَمِنھمْ مَّنْ یَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلاً۔ان میں سے بعض ایسے ہیں جنہوں نے اپنے عہد کو پورا کر دیا اور وہ خدا سے مل گئے۔نَحَبْ کے معنی نذر اور مَااَوْجَبَ عَلٰی نَفْسِہٖ کے بھی ہوتے ہیں پس اس سے مراد وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ