انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 158

انوار العلوم جلد !! ۱۵۸ فضائل القرآن (۲) مسیح موعود کا زمانہ ہے اور اسے قیامت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اور بتایا ہے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا جب مسلمانوں کی تباہی اور بربادی انتہا کو پہنچ چکی ہوگی اس وقت خدا تعالیٰ پھر ان کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ یہ ۔ گا۔ یہ پیشگوئی حضرت مسیح موع موعود علیہ السلام کے زمانہ کے متعلق ہے کہ مسلمان تباہ و برباد ہونے کے بعد پھر ترقی کریں گے اور اس بات کا پورا ہونا بتا دے گا کہ قرآن ایسے منبع سے نکلا ہے جہاں سے کوئی بات غلط نہیں نکلتی۔ جب یہ بات پوری ہو جائے گی تو لوگوں کو معلوم ہو جائے گا کہ مرنے کے بعد کے متعلق بھی قرآن جو کچھ کہتا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ دوسری بات یہ بیان فرمائی کہ انسان کے اندر جو نفس لوامہ رکھا گیا ہے وہ بھی قیامت کا ثبوت ہے۔ انسان جب کوئی گناہ کی بات کرتا ہے تو اس پر اس کا نفس اسے ملامت کرتا ہے۔ ایک چھوٹا بچہ بھی جب جھوٹ بول رہا ہوتا ہے تو سمٹتا اور سکڑتا جاتا ہے کیونکہ نفس لوامہ جو اس کے اندر موجود ہے وہ اسے شرم دلا رہا ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے میں نفس لوامہ جس کے نتیجہ میں انسان محسوس کرتا ہے کہ اخلاق کیا ہیں اور بد اخلاقی کیا ہے۔ گناہ کیا ہے اور ثواب کیا ہے۔ اس بات کا ثبوت ہے کہ قیامت کا بھی ایک دن مقرر ہے ورنہ اس کے اندر ندامت کا یہ احساس کیوں پیدا ہوتا۔ اسی طرح قرآن کریم عذاب اور انعام کی تمام تفصیلات بتاتا ہے اور ان کی حکمتیں بتاتا ہے اور سزا اور اس کی غرض اور انعام اور اس کا مقصد اور طریق سزا اور طریق انعام غرض ہر ایک پہلو پر مفصل روشنی ڈالتا ہے جس کی مثال دو سری کتب میں بالکل نہیں ملتی اور اگر ملتی ہے تو ناقص طور پر ۔ پس ضرورتِ مذہب کے بیان کرنے میں بھی اسلام دوسرے مذاہب سے افضل ہے۔ خدا تعالیٰ سے اتصال پیدا کرنے اور روحانی طاقتوں کو تکمیل تک پہنچانے (۵) اب میں پانچویں بات بیان کرتا ہوں کہ جو ضرورتیں کوئی مذہب پیش کرے والا مذہب اس کا فرض ہے کہ وہ انہیں پورا بھی کرے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس میں سوائے قرآن کریم کے اور کوئی کتاب پوری نہیں اترتی۔ صرف قرآن کریم ہی ہے جو اس امر کا مدعی ہے کہ جب تک کوئی مذہب خدا تعالیٰ سے اتصال پیدا نہیں کراتا اور روحانی طاقتوں کو مکمل نہیں کراتا اور اُخروی بھلائی کی ضمانت اسے نہیں دیتا اس کی خالی تعلیم اسے نفع نہیں پہنچا سکتی۔