انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 154

۱۵۴ روحانی طاقتوں کی تکمیل کے لئے کامل تعلیم (۳)تیسری چیز جس کا بیان کرنا ایک مذہب کے لئے نہایت ضروری ہے۔وہ ان امور کا بیان کرنا ہے جو روحانی طاقتوں کی تکمیل اور ان کی امداد کے لئے ضروری ہے۔یہ مضمون ایسا وسیع ہے کہ اس میں شریعت کے تمام احکام آ سکتے ہیں۔اور مذہب کے تمام اصول اور جزئیات پر بھی اس میں بحث ہو سکتی ہے کیونکہ ان کی غرض یہی ہو تی ہے کہ روحانی طاقتوں کا ارتقاء ہو۔لیکن چونکہ اس لیکچر کے یہ مناسب حال نہیں اس لئے میں اختصار اً اس کے متعلق صرف ایک ریویو کر دیتا ہوں کہ اسلام چونکہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ (۱)روح انسانی جسمانی تغیرات کے نتیجہ میں پیدا ہو تی ہے اور اس وجہ سےوہ جسمانی تغیرات سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہتی۔جیسے فرمایا۔یَا أَیُّھا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحاً ۵۳؂ اے رسولو! پاک چیزوں میں سے کھاؤاور مناسب حال اعمال بجا لاؤ۔یعنی طیبات کے کھانے سے نیک اعمال کی توفیق عطاہو تی ہے اس لئے وہ قرار دیتا ہے کہ مذہب کو ایک حد تک انسان کی غذاؤں اور اس کے کانوں اور اس کی آنکھوں اور اس کی قوت حاسّہ پر بھی حد بندی کرنی چا ہئے تاکہ معدہ اور حواس کے ذریعہ دماغ اور دل پر بد اثر ات نہ پہنچیں اور اس کی روح مردہ نہ ہو اور اس نے اس کے متعلق دو اصول مقرر کئے ہیں۔اوّل ضروری اور اصولی امور اس نے خود بتا دیئے ہیں اور ہر مسئلہ کے متعلق تفصیلی احکام دیئے ہیں مگر باوجود اس کے (۲)اس نے تسلیم کیا ہے کہ بعض امور میں انسان کی بدلنے والی ضرورتیں یا مختلف ممالک کے لوگوں کے لئے بدلتے رہنے والے قوانین کی بھی ضرورت ہو گی۔کیونکہ زمانہ کے تغیرات کے لحاظ سے ایسی ضرورتیں پیش آ سکتی ہیں جن کے متعلق اپنے طور پر قوانین بنانے پڑیں۔چنانچہ اس کے لئے وہ یہ قاعدہ مقرر فرماتا ہے کہ یَا أَیُّھا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لاَ تَسْأَلُوْا عَنْ أَشْیَآءَ إِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ وَإِنْ تَسْأَلُوْا عَنْھا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَکُمْ عَفَا اللّٰہُ عَنھا وَاللّٰہُ غَفُورٌ حَلِیْمٌ۵۴؂فرمایا۔اے مومنو! تم آپ ہی آپ یہ سوال نہ کیا کرو کہ ہم فلاں کام کس طرح کریں اور فلاں کس طرح۔کیونکہ بعض باتیں اﷲ تعالیٰ نے جان بوجھ کر اس حکمت کے ماتحت چھوڑ دی ہیں کہ اگر انہیں بیان کر دیا جائے تو وہ تمہارے لئے دائمی طور پر مقرر ہو جائیں گی حالانکہ وہ جانتا ہے کہ آئندہ ان میں تبدیلی کی ضرورت پیش آتی رہے گی۔پس دوسرا اصل قرآن کریم نے یہ بتایا کہ کامل تعلیم کے