انوارالعلوم (جلد 11) — Page 153
۱۵۳ مُّبَارَکَۃٍ زَیْتُوْنِۃٍاور اس میں اعلیٰ درجہ کا مصفّٰی تیل زیتون کے مبارک شجر کا ہو۔لَا شَرْقِیَّۃٍ وَلَا غَرْبِیَّۃٍاور وہ شجر ایسا ہو جو نہ شرقی ہو نہ غربی۔یَکَادُ زَیْتُھا یُضِیْء ُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْہٗ نَارٌایسا تیل اپنی اعلیٰ درجہ کی صفائی کی وجہ سے قریب ہو کہ بغیر آگ کے آپ ہی آپ روشن ہو جائے۔نُورٌ عَلٰی نُورٍاس لئے کہ جب اس تیل یعنی فطرت صحیحہ میں ایسی جلا پیدا ہو جائے تو اﷲ تعالیٰ کا نور جو اس فطرتی نور کو روشن کر دینے کی وجہ سے نار سے مشابہ بھی ہے نازل ہو جاتا ہے اور آسمانی نور زمینی نور سے آکر مل جاتا ہے۔اب دیکھو اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے کس طرح کھول کر بیان فرما دیا ہے کہ فطرت کا نور جب کامل جلا پا جائے اور ایسا مصفّٰی ہو جائے کہ گویا خود ہی جل اٹھنے والا ہو تو اس وقت وہ آسمانی نور کو جذب کر لیتا ہے یعنی مورد الہام ہو جاتا ہے۔پس یہ کہنا کہ کامل اور مصفّٰی دماغ آپ ہی تعلیم کو معلوم کرے گا درست نہیں۔اگر وہ کامل ہے تو الہام خود بخود اس پر نازل ہو گا۔اور اگر وہ ناقص ہے تو پھر تعلیم بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔غرض اس آیت میں روحانی طاقتوں اور ان کے ارتقاء کے مسئلہ پر سیر کن بحث کی گئی ہے۔جس پر عقل اور مشاہدہ دونوں شاہد ہیں۔اور یہ بحث دنیا کی اور کسی کتاب میں نہیں مل سکتی۔ٍ آگے بتایا کہ یہ نور کہاں ہے؟ فرماتا ہے۔فِیْ بُیُوْتٍ أَذِنَ اللّٰہُ أَن تُرْفَعَ وَیُذْکَرَ فِیْھا اسْمُہٗ یُسَبِّحُ لَہٗ فِیْھا بِالْغُدُوِّ وَالْاٰ صَالِ۵۲ یہ نور ایسے گھروں میں ہے جن کے متعلق خدا تعالیٰ کی طرف سے فیصلہ یہ ہو چکا ہے کہ انہیں اونچا کیا جائے گا اورحکومت دی جائے گی۔گو یا نور سے مراد محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ہیں جن کے متعلق یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ انہیں دنیا کا بادشاہ بنا دیا جائے گا۔پس بے شک انسانی فطرت میں بھی نور ہے اور وہ خدا کے نور کے مشابہ ہے مگر قاعدہ یہ ہے کہ جب ایک فطرت جلا پا جائے یعنی اس قدر مکمل ہو جائے کہ الہام پانے کی طاقت اس میں پیدا ہو جائے تو آسمان سے الہام اس پر نازل ہو تا ہے گویا انسانی فطرت صحیحہ الہام کے بغیر رہ ہی نہیں سکتی۔جب فطرت کامل ہو جائے تو ضرور ہے کہ الہام نازل ہو۔لیکن اگر الہام نازل نہیں ہو تا تو فطرت کامل نہیں ہو گی۔پس بغیر الہام الٰہی کے کام نہیں کیا جا سکتا۔