انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 150

انوار العلوم جلد 11 ۱۵۰ فضائل القرآن (۲) فطرت انسانی کی روحانی طاقتوں کا اظہار کلام الہی کے بغیر نہیں ہو سکتا اب ایک اور سوال ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ اگر روح کو بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے تو وہ قرآن کریم کی تعلیم کو کس طرح سمجھ سکتی ہے۔ یہ بات ایک اور آیت سے حل ہو جاتی ہے جس سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالٰی نے روحانی طاقتوں کو فطرت انسانی سے بھی وابستہ قرار دیا ہے اور تسلیم کیا ہے کہ روح میں بھی کلام الہی موجود ہوتا ہے مگر مخفی طور پر۔ اور وہ اپنے ظہور کیلئے بیرونی کلام الہی کا محتاج ہوتا ہے۔ پس تھوڑا علم ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ فطرت انسانی کو روحانی طاقتوں سے لگاؤ نہیں۔ لگاؤ ہے مگر ان طاقتوں کا ظہور سوائے کلام الہی کے نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ اِنَّهَ لَقُرْأَنَّ كَرِيمٌ - فِي كِتَبٍ مَكْنُون ۴۹، یعنی قرآن کریم میں جو تعلیمات بات ہیں وہ فطرت انسانی میں جو مظہر روح ہے موجود ہیں۔ کیونکہ انسان اس شئے سے فائدہ اٹھا سکتا ہے جو اس کے اندر بھی موجود ہو ۔ غیر جنس اسے نفع نہیں دے سکتی۔ جیسے اگر کان نہ ہوں تو سننا نا ممکن ہے اور آنکھیں نہ ہوں تو دیکھنا نا ممکن ہے۔ یا اس کی مثال پانی کی سی ہے کہ جب اوپر سے پانی برستا ہے تو چشمے بھی جاری ہو جاتے ہیں اور اگر آسمان سے پانی نہ برسے تو چشمے بھی خشک ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح جب خدا تعالیٰ کی وحی کا پانی نازل ہوتا ہے تو روح انسانی سے بھی روحانی پانی اُبلنے لگتا ہے۔ کیونکہ الہی کلام اور انسانی فطرت ایک دو دوسرے کیلئے بطور جوڑے کے ہیں۔ ایک لفظوں میں کتاب الہی ہوتی ہے اور دوسری فطرت میں مرکوز ہوتی ہے۔ اور وہی کتاب الہامی ہو سکتی ہے۔ جو انسانی فطرت کے مطابق ہو پس انسانی فطرت میں بھی کلام الہی ہوتا ہے۔ مگر اسے راسے ابھارنے کیلئے الہام کی ضرورت ہوتی ہے خدا تعالیٰ نے ایک طرف تو اپنے کلام کا ایک حصہ انسان کے دماغ میں رکھ دیا اور دوسرا حصہ اس نے اپنے نبی کو دے کر بھیج دیا ۔ جب یہ دونوں حصے ایک دوسرے کے ساتھ جُڑ جاتے ہیں تو اسے خدا کی طرف سے سمجھ لیا جاتا ہے۔ اس موقع پر میں ایک لطیفہ سناتا ہوں۔ جب میں سفر ولایت کے ایام کا ایک واقعہ ولایت سے واپس آیا تو جس جہاز پر ہم سوار ہوئے اس کا چیف انجینئر ایک دن جہاز کی مشینری دکھانے کیلئے مجھے لے گیا۔ اور دکھانے کے بعد کہنے نگا کہ آپ اپنے سیکرٹریوں کو واپس بھیج دیں۔ میں آپ کے ساتھ ایک خاص بات کرنا چاہتا