انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 149

۱۴۹ لے لو اور قرآن کی مثل بنا دو۔پھر تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ بغیر کلام الٰہی کے کام چل سکتا ہے یا نہیں۔چنانچہ دیکھ لو یہ کس قدر زبردست معجزہ قرآن کریم کا ہے کہ وہی زمانہ جس کے متعلق احادیث نبویہ ؐسے ثابت ہے کہ قرآن کریم کے اٹھنے کا ہے۔اور جس زمانہ میں رَحْمَۃِ رَبِّیْ سے دوبارہ قرآن آنے کا ذکر ہے۔اس زمانہ میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہیں جو ارواح سے مل کر حقائق روحانیہ کے دریافت کرنے کے مدعی ہیں۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم اس چیلنج کو قبول کرتے ہیں اور اگر ارواح کے اندر یہ قابلیت ہے کہ وہ آپ ہی آپ اپنی ترقی کے ذریعہ علوم کو معلوم کر لیں تو وہ قرآن کی مانند کوئی تعلیم پیش کر کے دکھائیں۔اب سوال پیدا ہو تا ہے کہ مثل میں کن کن امور کا پایا جانا ضروری ہوتا ہے۔سو اس کے متعلق اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ ھٰذَالْقُرْاٰنِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ فَاَبٰی اَکْثَرُ النَّاسِ اِلَّاکُفُوْرًا۔اب ہم نے قرآن میں دو خوبیاں رکھی ہیں۔ان کی مثال روحوں سے تعلق رکھنے والے اور خود روحانیت میں ترقی کرنے کا دعویٰ کرنے والے پیش کریں۔ایک تو یہ کہ ہر ضروری امر جس کی روح کو ضرورت ہے قرآن کے اندر بیان کر دیا گیا ہے۔دوسرے ہر ضروری امر کی ہر ضروری شق بیان کر دی گئی ہے۔یعنی مختلف متفاوت فطرتوں کا اس میں پورا پورا لحاظ رکھا گیا ہے اور ہر حکم ایسے رنگ میں بیان کیا گیا ہے کے وہ سب کے لئے کار آمد ہو۔یہاں فلسفیوں اور سپرچولزم والوں کو چیلنج دیا گیا ہے کہ تم ایسی کتاب بنا کر دکھاؤ جس میں وہ ساری باتیں آجائیں جن کی تکمیل ِ روحانیت کے لئے ضروری ہے اور پھر اس کتاب میں ایسی تعلیم ہو جس میں ساری فطرتوں کا لحاظ رکھا گیا ہو۔ایسی باتوں کی وہ کوئی مثال نہیں لا سکتے۔یہ لوگ بہت مدّت سے اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں مگر ابھی تک تو کچھ نہیں کر سکتے اور نہ آئندہ کر سکیں گے۔اوّل تو وہ قرآن جیسی جامع تعلیم ہی نہیں پیش کر سکتے اور اگر فرض کر لیا جائے کہ پیش کریں گے تو یا تو وہ قرآن کے مطابق ہو گی اور یا پھر قرآن کے خلاف۔اگر قرآن کے مطابق ہو گی تو اس کی ضرورت نہیں کیونکہ قرآن موجود ہے۔اور اگر قرآن کے خلاف ہو گی تو اس کا ردّ قرآن میں موجود ہو گا۔گویا کوئی کتاب ایسی نہیں ہوسکتی جو قرآن کا مقابلہ کر سکے۔کیا دنیا میں کوئی کتاب ایسی ہے جو روحانی امو رکے متعلق ایسا عظیم الشان دعویٰ پیش کر سکتی ہو؟