انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 148

۱۴۸ قرآن کریم کا دنیامیں نزول ہوا۔اب دیکھ لو۔وہی قرآن ہے جو پہلے تھا مگر اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ کیسے کیسے معارف اور حقائق نکل رہے ہیں اور کس طرح قرآن ساری دنیا پر غالب آرہا ہے۔در حقیقت اس آیت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کی خبر دی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ قرآن اس وقت دنیا سے اٹھ جائے گا۔مگر پھر خدا تعالیٰ کے ایک فرستادہ کے ذریعہ اسے زمین پر قائم کر دیا جائے گا۔سپر چولزم اور ہپناٹزم والوں کو چیلنج پھر فرماتا ہے قُلْ لَّئَنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓی اَنْ یَأْتُوْا بِمِثْلِ ھٰذَاالْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِہٖ وَلَوْکَانَ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ ظَھِیْرًا۔تو ان لوگوں سے کہہ دے کہ اگر جن و انس بھی مل جائیں تب بھی وہ اس قرآن کی مثل یعنی روحانی ترقیات کا راستہ بتا نے والی تعلیم لانے سے قاصررہیں گے۔یہاں جنّ سے مراد وہ جنّ نہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ کہ لوگوں کے سروں پر چڑھ جاتے ہیں۔ایسے جنوں کی متعلق یہ کہنا کہ ان کو بھی اپنے ساتھ ملا لوبیہودہ بات ہے۔یہ تو ایسا ہی ہو گا جیسے کہا جائے کہ تم خواہ فلاں درخت سے مدد لے لو یا فلاں بھیڑ سے امداد حاصل کر لو تو بھی فلاں شاعر جیسے شعر نہیں کہہ سکتے۔جس طرح یہ بات لغو ہے اسی طرح ایسے جنوں کے متعلق یہ کہنا کہ ان سے مدد لے لو لغوبات ہے۔پس یہاں جنّ سے مراد کوئی اور وجود نہیں ہیں بلکہ وہ جووجودمخفیہ ہیں جن کا نام سپرچولزم والے ارواح اور ہپنا ٹزم والے قوائے روحانیہ رکھتے ہیں۔چونکہ یہ نظروں سے پو شیدہ ہو تے ہیں اس لئے ان کو جنّ کہا گیا ہے۔یہ بات یاد رکھنی چا ہئے کہ کسی عقلمند کا دعویٰ نہیں تھا کہ جنّات سے مل کر وہ اعلیٰ روحانی تعلیم بنا سکتا ہے۔پس جس چیز کا دعویٰ ہی نہیں تھا اور جس اجتماع کا امکان ہی نہیں تھا اس کا چیلنج عقل کے خلاف ہے۔پس ا س جگہ جن سے مراد وہ روحانی افعال ہیں جو سبجیکٹو مائنڈ (SUBJECTIVE MIND) سے ظاہر ہو تے ہیں یا وہ اتحاد ہے جو بقول بعض ارواح غیر مرئی سے انسانوں کا ہو جاتا ہے اور ان سے وہ بعض روحانی علوم دریافت کر لیتے ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے تم ان سے بھی مدد لے لو وہ بھی تمہاری مدد کریں تب بھی تم اس قرآن کی مثل نہیں لا سکتے۔پس یہاں جنّ سے مراد وہ ارواح ہیں جن کی مدد سے لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ نئے روحانی علوم معلوم کر سکتے ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ان سے بھی مدد