انوارالعلوم (جلد 11) — Page 146
انوار العلوم جلد 11 الدم فضائل القرآن (۲) عَلَيْكَ كَبِيرًا - قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا - وَلَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِي هَذَا الْقُرْآنِ مِنْ كُلِّ مَثَلِ فَأَبَى اَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُورًا - ۲۸ ان آیات سے پہلے قرآن کریم کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے بعد فرماتا ہے۔ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ کچھ لوگ تجھ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ کیوں نہ تسلیم کیا جائے کہ روح اپنے اندر یہ ذاتی قابلیت رکھتی ہے کہ اس سے اعلیٰ در۔ کہ اس سے اعلیٰ درجہ کا کلام نکلنے لگ جاتا ہے۔ یہاں سوال نقل نہیں کیا گیا۔ اس لئے اس موقع کے لحاظ سے جتنے سوال کے پہلو نکل سکتے ہوں وہ سب جائز ہونگے ۔ ایک سوال یہ ہو سکتا ہے کہ روح کو کس طرح پیدا کیا گیا ہے دوسرا سوال یہ ہو سکتا ہے کہ روح میں کیا کیا طاقتیں رکھی گئی ہیں۔ تیسرا سوال یہ ہو سکتا ہے کہ روح کا انجام کیا ہو گا؟ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلاً - روح مادیات سے بالا ہے اس لئے یہ تمہارے تصرف میں نہیں آسکتی۔ اس کی پیدائش اس کا قیام اور اس کا انجام سب اللہ تعالیٰ کے تصرف میں ہے کیونکہ وہ ہی خود روح کو پیدا کرنے والا ہے۔ اس میں ان لوگ ان لوگوں کا رد کیا گیا ہے جو کہتے ہیں کہ روح آپ : کمال حاصل کر سکتی ہے۔ فرمایا جب تک خدا کا کلام روح کو حاصل نہ ہو وہ کوئی کمال ظاہر نہیں کر سکتی۔ پھر جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ روح فنا کیوں نہیں ہوتی ؟ ان کے متعلق فرمایا کہ زندہ رکھنے والا جو موجود ہے تو فنا کیوں ہو ۔ جیسے آگ جلانے والا جب تک آگ میں لکڑیاں ڈالتا جائے گا وہ نہیں بجھے گی۔ غرض نہ یہ سوال درست ہے کہ روح ہمیشہ کس طرح رہے گی اور نہ یہ کہ اگر زندہ رہے گی تو حادث نہیں ہے کیونکہ اس کی زندگی خدائی اذن سے ہے نہ کہ اپنی ذاتی قابلیت کی وجہ سے۔ بہر حال روح کی پیدائش بھی امریعنی کُن کہنے سے ہے اور اس کی ترقی بھی امر یعنی کلام الہی سے ہے اور اس کا ابدی قیام بھی امریعنی قضائے الہی سے وابستہ ہے۔ پھر فرمایا کہ انسانی روح کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ آپ ہی کمال حاصل کر سکتی ہے اور آپ ہی تعلیم بیان کر سکتی ہے مگر یہ غلط ہے وَمَا أُوتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلاً روح کے متعلق جو انسانی معلومات ہیں وہ نہایت ناقص اور ناتمام ہیں جس طرح اور غیر مادی اشیاء مثلاً ذات باری یا ملائکہ کے متعلق اس کے معلومات ناقص ہیں۔ اس کے لئے خدا تعالیٰ کا الہام ضروری ہے جس کے امر سے یہ سب کچھ ہے۔ اسی طرح اس کی مخفی طاقتوں کا ابھارنا بھی امریر