انوارالعلوم (جلد 11) — Page 145
انوار العلوم جلد 1 رہ جاتا۔ ۱۴۵ فضائل القرآن، ۱۲ شکور کے لفظ میں اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف توجہ دلانے کے لئے قلب میں شکریہ کے احساسات کا پیدا ہونا ضروری ہے۔ اور یہ احساسات بغیر رحمانیت کی صفت کے پیدا نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ رحمانیت کے بغیر وہ اعلیٰ محرک عمل جو بے نفسی کا موجب ہوتا ہے پیدا نہ ہو سکتا۔ کیونکہ سب کچھ نتیجہ عمل میں ملتا تو ہر عمل لالچ کی وجہ سے ہوتا۔ مگر چونکہ احسان موجود ہے اور خدا تعالیٰ نے ہر انسان پر اس کے عمل کرنے کے قابل بننے سے پہلے نعمتیں نازل کی ہیں۔ اس لئے اعلیٰ انسان اپنے اعمال کو طلب صلہ کی بجائے شکر ماضی کے ماتحت لے آتا ہے۔ اور وہ خدا تعالی کی شکر گذاری کرتا اور اس کے احکام بجالاتا ہے۔ نہ اس لئے کہ اب اسے کچھ ملے بلکہ اس لئے کہ وہ خدا تعالٰی کے پہلے احسانات کا شکر ادا کرے۔ اس طرح مومن کے دل میں لالچ اور طمع کو نکال دیا اور محض خدا تعالی کی شکر گذاری کا جذبہ اس میں پیدا کیا۔ غرض تکمیل صفات اور دلائل صرف قرآن کریم نے دیئے ہیں۔ باقی کتب صرف دعا میں بطور ایک ٹونے کے خدا تعالیٰ کے اسماء کو استعمال کرتی ہیں اور وہ ذرہ بھر بھی متشابہ صفات کے فرق اور ان کے دلائل پر روشنی نہیں ڈالتیں۔ دوسرا امر جس کا بیان ایک الہامی کتاب کے لئے انسان کی روح کی روحانی طاقتوں کا بیان ضروری ہے انسان کی روحانی طاقتوں کا بیان ہے۔ اس مضمون پر بھی قرآن کریم نے بلکہ صرف قرآن کریم نے ہی روشنی ڈالی ہے دو سری کتابوں میں یہ بات نہیں ملتی۔ یا تو اس لئے کہ جس وقت وہ نازل ہو ئیں اس وقت اس قدر روحانی ارتقاء نہ تھا۔ یا پھر ان کے بگاڑ کے زمانہ میں جو بھی تعلیم ان میں تھی وہ ضائع ہو گئی۔ مگر قرآن کریم کو دیکھو اس میں ایک اعلیٰ طریق سے ان باتوں کو بیان کیا گیا ہے۔ وَيَسْتَلُونَكَ عَنِ الرُّوح کی لطیف تغییر خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلاً - وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهِ عَلَيْنَا وَكِيلاً - إِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ إِنَّ فَضْلَهُ كَانَ