انوارالعلوم (جلد 11) — Page 140
انوار العلوم جلد ! ۱۴۰ فضائل القرآن (۲) وہ ان ضروریات کے پورے ہوتے ہوئے نظر نہیں آتا تو یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ وہ لطیف ہے۔ یہاں یہ نہایت عجیب نکتہ خدا تعالیٰ کی بعض صفات جوڑے کی حیثیت رکھتی ہیں بیان کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی بعض صفات جوڑے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جس طرح مرد و عورت کے ملنے سے بچہ پیدا ہوتا ہے اسی طرح ان دو صفات کے ملنے سے نتیجہ پیدا ہوتا ہے۔ مثلاً خبردار رہنا اور ادنیٰ سے ادنی تغیر کو بھی غائب نہ ہونے دینا یہ لطیف ہستی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ یعنی ایسی ہستی جو موجودات کے ہر ذرہ سے ایک کامل اتصال رکھتی ہو۔ اور ایسے اتصال کے لئے لطیف ہونا شرط ہے۔ پر خبیر کی صفت لَطِیف کیلئے بمنزلہ جوڑے کے ہے۔ اور اس کے ذریعہ سے اس کا بھی ظہور ہوتا ہے۔ یا ان دونوں کا آپس میں روح اور جسم کا تعلق ہے کہ ایک نہ ہو تو دوسری صفت بھی ثابت نہیں ہوتی اور دوسری نہ ہو تو پہلی ثابت نہیں ہوتی۔ اگر خَبِیر کی صفت وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ سے ثابت نہ ہوتی تو لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ بھی ثابت نہ ہو تا بلکہ عدم ثابت ہوتا۔ اس کے مقابلہ میں اگر لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ ثابت نہ ہو تا یعنی اس کا لطیف ہونا تو خَبِیر کی صفت بھی نہیں رہ سکتی تھی۔ کیونکہ جو وجود کامل اتصال نہیں رکھتا وہ خبیر بھی نہیں ہو سکتا۔ غرض لَطِیف ہستی وہ ہوتی ہے جو باریک در باریک اور ہر ورہ میں موجود ہو۔ اور جو ایسی لطیف ہو وہ نظر کبھی نہیں آسکتی، ضرور ہے کہ وہ مخفی ہو۔ پھر لطیف ہونا خَبِير ہونے کا بھی ثبوت ہے۔ کیونکہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ ایک ہستی ہے جو لطیف ہونے کی وجہ سے ہر ذرہ سے تعلق رکھتی ہے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ وہ خَبِير ہے۔ غرض خدا تعالیٰ کی صفت لَطِیف اس کے خَبِیر ہونے پر شاہد ہے۔ اور خَبِیر ہونے کی صفت اس کے لطیف ہونے کی شہادت دے رہی ہے۔ ایک اور صفت خدا تعالیٰ کا خدا تعالیٰ کی صفت رَبُّ الْعَلَمِينَ کا مادی ثبوت رَبُّ الْعَلَمِينَ ہوتا ہے اس کے روحانی اور جسمانی دو ثبوت پیش کئے گئے ہیں۔ جسمانی ثبوت تو یہ دیا کہ فرمایا ۔ الله الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا وَ السَّمَاءَ بِنَاءً وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبْتِ ذَلِكُمُ اللهُ رَبُّكُمْ فَتَبَرَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَلَمِينَ - ٢٣ یعنی